’’جب میں جوان تھی تو بہت خوبصورت تھی، لیکن اب میرے پاس اس پر توجہ دینے کا وقت ہی نہیں ہے،‘‘ نور (تبدیل شدہ نام) ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہتی ہیں۔ وہ اپنے کرایہ کے مکان کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے آرام کر رہی ہیں۔
تقریباً ۲۲ سال کی عمر سے کام کر رہیں نور نے کبھی تعمیراتی مقامات پر مزدوری کی، کبھی کسی فیٹکری میں اور پھر گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ اب وہ دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں صفائی ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ’’جب سے میں دہلی آئی ہوں، بس کام ہی کر رہی ہوں،‘‘ وہ پاری سے کہتی ہیں۔
روہنی، سیکٹر ۱۵ کے اس اسپتال میں نور نرسنگ اور صفائی – دونوں کاموں میں مدد کرتی ہیں۔ وہ مریضوں کے کمرے صاف کرتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر کھانے پینے کا انتظام بھی کرتی ہیں۔ اگر نرسوں کو پٹّی باندھنے یا مریضوں کی دیکھ بھال میں مدد چاہیے، تو اس میں بھی ہاتھ بٹاتی ہیں۔ ’’میں روزانہ تقریباً ۱۲-۱۳ گھنٹے کام کرتی ہوں۔ مجھے ۱۱ ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ دہلی جیسے شہر میں گزارہ کے لیے اتنے پیسے کافی نہیں ہوتے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’کرایہ، پانی اور بجلی سب کا پیسہ دینا پڑتا ہے۔‘‘ نور کے مطابق، ہر مہینے یہ سارے خرچ ملا کر تقریباً ۹۶۰۰ روپے ہو جاتے ہیں۔
نور سال ۲۰۰۴ میں اپنی خالہ اور شوہر کے ساتھ دہلی آئی تھیں۔ تب وہ ۲۱ سال کی تھیں اور اپنے پہلے بچہ کی ماں بننے والی تھیں۔ بہار کے سولند آباد سے ان کی فیملی بہتر آمدنی کی تلاش میں راجدھانی آئی تھی۔ نور کو بھی بہتر زندگی کی تلاش تھی۔
سال ۱۹۹۱ سے ۲۰۰۱ کے درمیان، دہلی-این سی ٹی میں آنے والے مہاجرین میں بہار کے لوگ دوسرے مقام پر تھے۔ پیریاڈِک لیبر فورس سروے (۲۰۲۴) کے مطابق، اس تعداد میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ دہلی آنے والے ۱۱ لاکھ لوگوں میں سے زیادہ تر روزگار کی تلاش میں آئے تھے۔
دہلی پہنچنے کے بعد نور کی فیملی کشمیری گیٹ کی جھگیوں میں رہنے لگی۔ نوجوان اور حاملہ نور کی پہلی نوکری تعمیراتی مقام پر کام کرنے والی مزدور کی تھی۔ بعد میں وہ سوروپ نگر کی ایک فیکٹری میں کام کرنے لگیں۔








