غریب نگر کی فضا گرد وغبار اور غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔
ممبئی کے باندرہ ایسٹ (مشرق) میں ۱۹ سے ۲۳ مئی ۲۰۲۶ کے درمیان چلائی جانے والی تجاوزات مخالف مہم میں تقریباً ۵۰۰ جھگیوں کو توڑ دیا گیا۔ یہ جھگیاں اُن مزدوروں اور گھریلو ملازماؤں کی تھیں جو یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔
یہاں چاروں طرف ملبہ بکھرا پڑا ہے۔
عالیہ شیخ، رخسار خان افسر، اسماء شیخ اور حنا خان ایک ترپال کے نیچے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں۔ اس مسلم اکثریتی علاقہ میں وہ اس فٹ پاتھ پر سو رہی ہیں، جس کے بالکل سامنے ان کے گھر ہوا کرتے تھے، جو کئی دہائیوں سے یہاں موجود تھے۔
غریب نگر کے رہائشیوں کو ۱۷ مئی کی شام ایک نوٹس جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ باندرہ جنکشن کے ارد گرد کی تمام بستیوں کو دو دن کے اندر مسمار کر دیا جائے گا۔
کچھ دنوں بعد عید تھی، جسے اس بستی کے زیادہ تر رہائشی مناتے ہیں۔ ’’انسان کی انسانیت کہاں ہے؟‘‘ ۵۲ سالہ گھریلو خاتون عالیہ اس رپورٹر سے سوال کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی بہو اور تین پوتے پوتیوں کے لیے جو نئے کپڑے خریدے تھے، وہ ان کے دیگر سامان کے ساتھ اب بھی بندھے پڑے ہیں۔
















