مرجانی درخت (ایریتھرینا ویریگاٹا) پوری آب و تاب کے ساتھ کھلا ہوا ہے۔ ناگالینڈ کے مون گاؤں میں اس کے شوخ سرخ پھول بہار کی آمد کا اعلان کرتے ہیں، اور اسی کے ساتھ آؤلینگ کے سالانہ تہوار کا بھی آغاز ہوتا ہے۔
نیلے کونیاک (۶۲) اپنے پوتے کے ساتھ یہاں آئی ہیں۔ کونیاک اسٹوڈنٹس یونین کی عمارت کے برآمدے میں بیٹھی وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، ’’مجھے یہاں آ کر اور تمام تقریبات دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔‘‘ تاہم وہ جس چیز کی سب سے زیادہ منتظر ہیں، وہ ضیافت ہے۔ نیلے کہتی ہیں، ’’میں نہایت لذیذ کھانے کھاؤں گی، جن میں چپچپا چاول، گوشت، چٹنی اور مختلف پھل شامل ہوں گے۔‘‘
اس جشن میں گیت، رقص اور روایتی کھیلوں کے علاوہ کئی ثقافتی مقابلے بھی منعقد کیے جائیں گے، جن میں کونگ-کے-ہم-اجک میک (بانس کی اونچی ٹانگوں پر دوڑ)، کھم تُت (لکڑی کے بڑے روایتی ڈھول بجانا) اور وَن کھن میک (روایتی طریقے سے آگ جلانے کا مقابلہ) شامل ہیں۔
کونیاک قبیلہ کے زیرِ اہتمام منایا جانے والا آؤلینگ چھ دن تک جاری رہتا ہے۔ مارچ اور اپریل کے بہاری مہینوں میں منعقد ہونے والے اس تہوار کے دوران، نئی جھوم کھیتی میں بیج بونے کے بعد پوری برادری اکٹھی ہو کر دیوتاؤں سے برکت اور اچھی فصل کی دعا مانگتی ہے۔ اس علاقہ کی اہم فصل دھان ہے، اور یہاں آج بھی منتقل ہوتی کاشت (یا جھوم کاشت) بڑے پیمانے پر رائج ہے۔
کونیاک برادری آج بھی اپنے موروثی دیہاتی سرداروں، جنہیں آنگھ کہا جاتا ہے، کو بڑی اہمیت دیتی ہے۔ حالیہ برسوں میں منتخب ارکان پر مشتمل گاؤں کی کونسل بھی قائم ہوئی ہے۔ سالانہ آؤلینگ، یا مقامی زبان میں اویاہ، کی تقریبات کے لیے خاندان اسی میدان میں جمع ہوتے ہیں جو آنگھ کے گھر کے ساتھ واقع ہے۔


