مہاراشٹر کے دھاراشیو ضلع میں رہنے والی ۴۲ سالہ سنجیونی بیڑگے کہتی ہیں، ’’ہم سرکاری اسکیموں کے بارے میں کیسے جانیں گے؟ ہمارے لیے بنی اسکیموں کی معلومات فراہم کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘ وہ تلجاپور تعلقہ کے جلکوٹ گاؤں میں کسان ہیں اور اپنی مالی حالت کو تھوڑا بہتر کرنے کی کوشش میں وہ دوسروں کے کھیتوں میں مزدوری بھی کرتی ہیں۔ سال ۲۰۲۰ سے ہی وہ مختلف سرکاری اسکیموں کے لیے رجسٹریشن کرانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ان کی ہر کوشش ناکام رہی ہے۔ سنجیونی بتاتی ہیں، ’’لاک ڈاؤن سے کچھ دنوں پہلے ۲۴ جنوری ۲۰۲۰ کو میرے شوہر شنکر نے اپنی جان دے دی۔ لیکن آدمی مر جاتا ہے، مگر قرض نہیں۔ میرے شوہر نے قرض کے بوجھ تلے دبا ہونے کی وجہ سے خودکشی کر لی۔ اب میں روزانہ اسی بوجھ کے ساتھ جی رہی ہوں۔‘‘
ان کے آنجہانی شوہر کے والد کے پاس جلکوٹ میں پانچ ایکڑ کی زرعی زمی ہے، جس پر شنکر اور ان کے تین بھائی مل کر کھیتی کرتے تھے۔ سنجیونی بتاتی ہیں، ’’ہمارے کھیت بارش پر منحصر ہیں اور یہاں سینچائی کا کوئی انتظام نہیں ہے، لیکن پھر بھی ہم کچھ ایسی فصلیں اُگاتے ہیں جس میں سینچائی کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کیوں کہ ان کی قیمت بہتر ملتی ہے۔ برسات میں ہم سویابین اور تور بوتے ہیں، اور دیوالی کے بعد جوار، گیہوں اور کالے چنے کی فصل لگائی جاتی ہے۔‘‘
سال ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۴ تک جوار، گیہوں اور کالے چنے کی قیمت تقریباً ۲۲۰۰ روپے فی کوئنٹل تھی۔ سویابین اور تور کی قیمت تقریباً ۵۰۰۰ روپے فی کوئنٹل تھی۔ گھر کے کھانے کے لیے اناج الگ کرنے کے بعد ان کے پاس سردی کی فصل میں تقریباً ۴ کوئنٹل بچتا تھا۔ اس کی قیمت تقریباً ۲۶۴۰۰ روپے ہوتی تھی۔ سویابین اور تور کی فصل ۵-۵ کوئنٹل بچ جاتی تھی۔ اس کی قیمت تقریباً ۵۰ ہزار روپے ہوتی تھی۔ اس طرح ان کی سالانہ آمدنی تقریباً ۷۶ ہزار ۴۰۰ روپے تھی۔ سنجیونی نے بتایا کہ یہ پیسہ چار برابر حصوں میں چاروں بھائیوں کے خاندانوں کے درمیان تقسیم ہوتا تھا۔
وہ بتاتی ہیں، ’’ہم سب جس کچے گھر [پھوس کی چھت والا مٹی کا مکان] میں رہتے تھے، اس میں بہت پریشانیاں تھیں۔ خاص کر بارش میں چھت ٹپکتی تھی اور ہمارے بچے اکثر بیمار پڑ جاتے تھے۔ اور علاج بہت مہنگا ہے۔‘‘








