سومیشور ایکناتھ سلگر غسل کرنے کے بعد اپنے ٹینٹ کے باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور نومبر کی گنگنی دھوپ کا مزہ لیتے ہوئے اپنے گیلے بالوں میں کنگھی کر رہے ہیں۔ یہ کچھ دیر آرام کرنے کا وقت ہے، کیوں کہ ان کا دن صبح ۴ بجے سے شروع ہوتا ہے اور ۱۲-۱۳ گھنٹے بعد ختم ہوتا ہے۔
سومیشور ایک پھڑکری (گنّا کٹائی مزدور) ہیں، جو اپنی فیملی کو لے کر باقی سینکڑوں مزدوروں کی طرح کام کی تلاش میں کولہاپور آئے ہیں، جہاں کئی چینی ملیں ہیں۔ کولہاپور ضلع کے پارگاؤں بھڈولے میں واقع وارنا چینی مل میں آپ کو کئی مزدور خاندان ٹینٹ میں رہتے ہوئے دکھائیں دیں گے، جو وہاں اگلے ۴-۵ مہینے گنے کی کٹائی ختم ہونے تک رہیں گے۔
ان میں سے زیادہ تر خشک سالی سے متاثرہ علاقوں سے آئے ہیں، جیسے کہ مراٹھواڑہ کا بیڈ ضلع۔
سومیشور بھاؤ بیڈ ضلع کے مُنگی علاقہ سے اپنی فیملی کے ساتھ آئے ہیں۔ بیڈ سے کولہا پور آنے کے لیے انہیں کل ۶۵۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑا، جس میں انہیں تین دن لگے۔ کولہا پور مہاراشٹر کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں گنے کی سب سے زیادہ کھیتی ہوتی ہے۔
وہ بتاتے ہیں، ’’میری بیوی پری ملا اور ہمارے تین بیٹے - پرمود، ونود اور دشرتھ ہمارے ساتھ ہیں،‘‘ وہ ٹریکٹر ٹرالی میں اپنا سامان اور ضروری سامان لاد کر اپنی فیملی کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ ٹینٹ کے اندر اناج کی بوریاں اور ایک گیس سیلنڈر رکھا ہوا ہے۔
























