’’بھوگول سبائی بنیر پائی، مونوسار ڈَیلا سُدو آمرائی بنائی [سولا یا بھینڈ سے کدمب کے پھول تو کوئی بھی بنا سکتا ہے، لیکن منسا دیوی کا ڈَیلا صرف ہم ہی بناتے ہیں]،‘‘ انیشوری برمن منہ میں پان دباتے ہوئے مسکرا کر کہتی ہیں۔
گھٹنوں تک ساڑی چڑھائے، بالوں کو جوڑے میں باندھے، ۵۸ سالہ انیشوری اپنے ہاتھ اور چہرے کو اپنی ساڑی کے آنچل سے پونچھتی ہیں اور اس آنگن کے سیمنٹ کے پختہ حصہ میں بیٹھ جاتی ہیں جسے انہوں نے ابھی ابھی جھاڑو دے کر صاف کیا ہے۔ گھریلو کام کاج اور کاریگری دونوں کو انجام دینے کا ایک اور لمبا دن ان کا انتظار کر رہا ہے۔
بھینڈ (ایسچِنومین ایسپیرا ایل، جسے بنگالی میں ’سولا‘ کہتے ہیں) ایک آبی پودا ہے، جس سے پوجا پاٹھ سے متعلق اور سجاوٹی چیزیں بنتی ہیں۔ یہ مغربی بنگال کی مشہور دستکاری کی روایات میں سے ایک ہے۔ ریاست کے شمالی ضلع کوچ بہار میں ۴۴۶۷ لوگوں کی آبادی (مردم شماری ۲۰۱۱) والے سدھیشوری گاؤں میں کئی خاندان سولا کاری پر منحصر ہیں۔ لیکن کوچ بہار۔دوئم بلاک کے اس گاؤں میں انیشوری جیسے خاندان کے چنندہ افراد ہی مانسا کا ڈَیلا بنانے کی وراثت سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ بھینڈ یا سولا کے تنے کے اندر موجود سفید رنگ کے ملائم اور ہلکے حصہ سے بنا وہ ڈھانچہ ہے، جس میں سانپوں کی دیوی منسا کی پینٹ کی ہوئی تصویر ہوتی ہے۔
’’اگر یہ روایت آپ کی فیملی میں نہیں ہے، تو آپ کو اسے بنانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ لیکن ہم بنا سکتے ہیں، کیوں کہ یہ ہمارے خاندان کی روایت رہی ہے،‘‘ وہ فخریہ انداز میں کہتی ہیں۔ ان کے شوہر کا خاندان راج بنشی برادری سے ہے، جو مغربی بنگال میں درج فہرست ذات کے طور پر درج ہے۔

























