بلبیر وشو کرما دو دہائیوں سے لکڑیوں پر نقاشی کا کام کرتے آ رہے ہیں اور اب تک سات مندروں کی تعمیر کر چکے ہیں۔ اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقہ میں تعمیرات سے متعلق شاید ہی ایسی کوئی بات ہو جو وہ نہ جانتے ہوں۔
’’یہ ہمارا خاندانی کام ہے، باپ دادا کے ٹائم سے،‘‘ بلبیر دیودار کی گرم لکڑی پر اپنا ہتھوڑا اور چھینی رکھتے ہوئے کہتے ہیں، اور پاری سے بات کرنے کے لیے رکتے ہیں۔
ہم جونسار کے علاقہ میں ہیں۔ صبح کی نرم دھوپ پہاڑی سلسلوں کے اوپر چڑھ چکی ہے اور مہسو دیوتا کے نام سے منسوب مندر کے میناروں کو روشن کر رہی ہے، جو ۲۰۲۵ کے آخر میں پاری کے دورہ کے وقت ابھی زیرِ تعمیر تھا۔
’’مندر بنانے کی شروعات ہمیشہ نیچے سے ہوتی ہے۔ پہلے بیس (بنیاد) بنے گا، پھر اوپر کا۔ سب سے ضروری ہے پِلر (کھمبا) جس پر ڈھانچہ کھڑا ہوگا،‘‘ بلبیر اردگرد کے ڈھانچہ کو دیکھتے ہوئے ہمیں بتاتے ہیں۔
ماہر کاریگر یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک ہی مندر پر سب سے زیادہ وقت انہوں نے تَھینا گاؤں کے مندر پر صرف کیا تھا، جس کی تکمیل میں نو سال لگے کیوں کہ اس میں بہت سے آرائشی عناصر شامل تھے۔ چھوٹے مندر ایک سے دو سال میں مکمل ہو جاتے ہیں۔























