’’قدرتی رنگوں سے رنگے کپڑوں کو دھونے کے لیے بہتی ندی کی دھارا چاہیے،‘‘ عبدالحلیم کہتے ہیں۔ ’’یہاں پہ تو ہاتھ دھونے کے لیے بھی پانی نہیں ملتا!‘‘
حلیم تیسری نسل کے بلاک پرنٹنگ کاریگر ہیں۔ منافع میں آرہی مسلسل کمی اور جعلی مصنوعات کے بڑھتے ہوئے کاروبار کی وجہ سے انہیں اپنی ورکشاپ کو فعال رکھنے میں مشکلیں پیش آ رہی ہیں۔ پانی کی قلت والے اندور شہر میں جلد چڑھ جانے والے کیمیائی رنگوں کے استعمال کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا۔
بلاک پرنٹنگ کا کام لکڑی کے ٹکڑوں (بلاکس) پر ڈیزائن ابھارنے سے شروع ہوتا ہے۔ حلیم ڈیزائن بناتے ہیں اور جے پور، فرخ آباد اور فتح پور میں بلاک کاریگروں کو بھیج دیتے ہیں۔ اس کام کے لیے یہ کاریگر عموماً ساگوان (ٹیک) یا شیشم (ہندوستانی روز ووڈ) کی لکڑی کا استعمال کرتے ہیں۔
ان بلاکوں کو رنگ میں ڈبو کر کپڑے کو پرنٹ کیا جاتا ہے۔ ’’یہ ہماری وراثت کا حصہ ہیں،‘‘ چندیری دوپٹے پر گلابی رنگ سے گلاب پرنٹ کرنے کے لیے نیچے جھکتے ہوئے حلیم کہتے ہیں۔ وہ احتیاط سے یہ کام کر رہے ہیں تاکہ پکے رنگ کپڑے پر پھیل نہ جائیں۔ رنگوں کا جو مرکب وہ استعمال کر رہے ہیں اسے کپڑے پر لگانے سے پہلے جوٹ، ململ کی روئی اور مچھر دانی کے ذریعے فلٹر کیا گیا ہے۔ موسمی حالات، خاص طور پر مانسون، خشک کرنے کے عمل کو مشکل بنا سکتے ہیں جس میں عام طور پر تقریباً ۷۲ گھنٹے لگتے ہیں۔














