’’ہم نقل مکانی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم کہاں جائیں گے؟ ہمیں بے گھر لوگوں کی طرح در بدر بھٹکنا پڑے گا،‘‘ منالال کُرمی کہتے ہیں۔ وہ سرسیلا رعیت میں مقیم ایک کسان ہیں۔ یہ گاؤں ان ۹۳ گاؤوں میں سے ایک ہے، جو مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع میں واقع ہندوستان کے ۵۴ویں ٹائیگر ریزرو – ویرانگنا درگاوتی (وی ڈی ٹی آر) – میں ضم ہو جائیں گے۔ اب اس میں ایک نیا پہلو بھی شامل ہو گیا ہے کہ یہاں کسی بھی وقت چیتوں کی آمد متوقع ہے۔
وی ڈی ٹی آر ان ۵۸ پارکوں میں سے ایک ہے جنہیں حال ہی میں باگھوں کے مسکن کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان میں سے دو پارک چیتوں کے بھی مسکن ہوں گے۔ ان ریزورز میں داخلہ ممنوع ہوگا، یہاں صرف جنگلی جانور رہیں گے۔
ان ریزورز کے قیام کے لیے – جو اب تقریباً ۸۰ ہزار مربع کلومیٹر یا ہندوستان کے مجموعی جنگلات کے تقریباً ۱۰ فیصد پر محیط ہیں – کل ۲۵۷ گاؤوں کو منتقل کر کے وہاں کے باشندوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کیا گیا۔ قبائلی امور کے مرکزی وزیر مملکت درگا داس اوئیکے نے دسمبر ۲۰۲۵ میں لوک سبھا کو ان حقائق سے آگاہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہی ریزورز کے اندر واقع مزید ۷۳۰ گاؤوں ہیں جو اب منتقلی کی اگلی فہرست میں شامل ہیں۔
دموہ ضلع کا ایک اور گاؤں ڈباہ بھی نئے ریزرو میں ضم ہو جائے گا۔ ’’ہم کہاں رہیں گے؟ ہم کیا کھائیں گے؟‘‘ نورادیہی ریزرو کے کنارے آباد اسی گاؤں کی رادھا رانی گونڈ پوچھتی ہیں۔ سردیوں کی دھوپ میں اپنے صحن میں بیٹھیں، اس بظاہر پریشان ۷۵ سالہ بزرگ خاتون کے ہاتھ حال ہی میں کھیت سے آئے گندم کے دانوں میں گھوم رہے ہیں۔
ریزروز کی بنیاد ’قلعہ نما تحفظ‘ ہے، جس کے تحت جنگلی حیات کے لیے خصوصی محفوظ علاقے قائم کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ماہرین ماحولیات کا خیال ہے کہ یہ ایک بیحد آسان بیانیہ ہے کہ باگھ اور انسان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ جبکہ حقیقت یہ کہ ہندوستان کے جنگل میں رہنے والی برادریاں ہمیشہ جنگلی جانوروں کے قریب رہتی آئی ہیں۔ ’’یہ ہم ہی ہیں جو جنگل اور جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ ہمیں باہر پھینک رہے ہیں، اور یہاں سیاحوں کے لیے گیسٹ ہاؤس بنائیں گے،‘‘ جنکا بائی کہتی ہیں۔ ان کا گاؤں اُمراوَن ۲۰۱۵ میں پناّ ٹائیگر ریزرو کی توسیع کا حصہ بن گیا تھا۔























