’’گَل سنگھ نے ۲۹ اکتوبر کو گاؤں کے بنجاروں کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ انہوں نے بھودان (عطیہ شدہ زمین) اسکیم کے تحت ہم بھیلالاؤں کو الاٹ کی گئی ۳۳ ایکڑ زرعی زمین پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے اور وہاں جھونپڑیوں کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ اس شکایت پر بنجارے مشتعل ہوگئے اور دو دن بعد انہوں نے گل سنگھ کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ وہ اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ انہیں اندور کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک ماہ بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔ ہم نے انتظامیہ سے بارہا شکایت کی، لیکن گاؤں کے بارسوخ لوگوں اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔‘‘ گُنا کے پنیہٹی گاؤں میں زمین کے ایک ایسے قطعہ پر (جس کا بظاہر کوئی بھی مالک نہیں تھا) دو برادریوں کے درمیان ۲۰۲۴ میں ہونے والے پرتشدد تصادم کو یاد کرتے ہوئے کلّو بھیلالا نے یہ باتیں کہیں۔ وہ خود بھی اس واردات میں زخمی ہوئے تھے۔
گل سنگھ کی موت کی خبر پھیلنے کے بعد، بھیلالا آدیواسیوں اور بنجارا برادری کے درمیان پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں بنجاروں کے ۱۰ گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ دونوں برادریوں کے کئی کنبے بے گھر ہو گئے۔ خوف زدہ لوگ گاؤں چھوڑ کر بھاگنے اور کڑاکے کی سرد راتیں کھلے آسمان کے نیچے گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
’’ہمارے اجداد کو بھودان کے پٹّے دیے گئے تھے،‘‘ ۴۶ سالہ گل سنگھ بھیلالا نے ۲۰۲۴ کے آغاز میں اس رپورٹر سے ملاقات کے دوران بتایا تھا۔ ’’وہ تقریباً ۵۰-۵۵ سال قبل یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔ آج ان پٹوں کو بھو سوامیتوا پٹہ [زمین کی ملکیت کی دستاویز] کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد بھی ہم زمین کا اصل مالکانہ حق حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ اس علاقہ کے تمام بھیل، بھیلالا [بھیلوں کا ذیلی گروپ] اور سہریا آدیواسیوں کے لیے ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔ یہاں باموری تحصیل میں ایسے کئی آدیواسی ہیں جن کے کھیتوں پر دبنگوں [غالب برادری سے تعلق رکھنے والے زمین مالکان] نے قبضہ کر رکھا ہے۔‘‘
’’بھودان کے کئی پٹے گاؤں کے خسرہ [زمین کا شناختی نمبر] کے تحت آتے ہیں،‘‘ انہوں نے اس وقت وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا۔ ’’اور دوسروں نے ان پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ پٹواری، تحصیلدار، کوئی بھی آج تک ہمارے لیے اس زمین کی حد بندی نہیں کرسکا ہے۔‘‘ محکمہ مالیات کے افسران کی جانب سے اس عمل کو مکمل نہ کیے جانے کی وجہ سے مختلف برادریاں مسلسل باہم متصادم رہتی ہیں۔ گل سنگھ نے یہ باتیں ایسے ہی ایک واقعہ میں اپنی جان گنوانے سے کئی ماہ قبل بتائی تھیں۔
ان تمام تنازعات میں سب سے بڑا مسئلہ ایک سلگتا ہوا، انتہائی پیچیدہ، اور تہہ دار زمینی تنازع کا گورکھ دھندا ہے۔ یہ وہ تنازع ہے جس نے اس علاقہ کے ایک آدیواسی گروہ کو دوسرے آدیواسی گروہ کے مدمقابل کھڑا کر دیا ہے، اور انہیں کم وسائل والے دیگر پسماندہ طبقات، غالب برادریوں کے زمین مالکان، محکمہ جنگلات کے اہلکاروں اور سیاستدانوں کے ساتھ بھی تصادم کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
اس رپورٹر نے ۲۰۲۲ میں، جب سے ان واقعات کو قلمبند کرنا شروع کیا ہے، آدیواسیوں کی زمین سے متعلق ایسے کئی تنازعات دیکھے ہیں۔ اسی سال مدھیہ پردیش کے گُنا کے دھنوریا گاؤں کی رام پیاری کو غالب ذات کے زمین مالکان نے ان کے اپنے ہی کھیت میں زندہ جلا دیا تھا۔ وہ بھی تب جب انہوں نے اپنی زمین کے حق کے لیے ۲۰ سال لمبی قانونی لڑائی جیتی تھی۔ زمین کے حقوق پر اس طرح کے پرتشدد تصادم ان کی موت سے قبل سے چلے آ رہے ہیں اور آج بھی شدت کے ساتھ جاری ہیں۔















