زرد رنگ کے ترپال پر تازہ توڑی گئی چیری (شاہ دانہ یا آلو بالو) کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ اسی ترپال پر ساٹھ کی عمر پار کر چکے دو بھائی، عبد السلام خان اور نصراللہ خان پالتھی مار کر بیٹھے ہیں اور اپنے تجربہ کی بنیاد پر نہایت احتیاط سے پھلوں کی چھنٹائی اور درجہ بندی کر رہے ہیں۔ آبی مزاحم (واٹر پروف) کپڑے پر پڑ رہی دھوپ ان کے جھری دار چہروں کو روشن کر دیتی ہے، جن پر مشکلوں بھرے اس سیزن کے اختتام کی تھکن صاف دکھائی دے رہی ہے۔
ان کا باغ بہت چھوٹا ہے، صرف ایک چوتھائی ایکڑ، جو وسط کشمیر کے گاندربل ضلع کے سورف راؤ گاؤں میں واقع ہے۔
جون کی ایک چمکدار صبح عبد السلام کہتے ہیں، ’’اس سال حالات کافی مشکل بھرے رہے۔‘‘ یہ ۶۵ سالہ بزرگ مزید کہتے ہیں، ’’ہم گزشتہ ۴۰ سالوں سے یہ کام کر رہے ہیں، لیکن ایسا سیزن ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ موسم اور سیاحوں کی کمی نے مل کر ہمیں بری طرح متاثر کیا ہے۔‘‘
پشتون برادری سے تعلق رکھنے والے ان خان بھائیوں نے اس سال کی شروعات میں سورف راؤ کے الگ الگ علاقوں میں پھیلے دو ایکڑ کے چیری کے باغ پٹّہ پر لیے تھے۔ یہ گاؤں سرینگر سے ۴۹ کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور ان کے گھر گُٹلی باغ سے یہاں تک پہنچنے میں تقریباً ۳۵ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔
پھل توڑنے کے دوران فیملی کے اراکین اور اجرت پر رکھے گئے مزدور ساتھ مل کر کام کرتے رہے، لیکن مہینوں کی محنت کے بعد اب خریدار ملنا مشکل ہو گیا ہے۔














