’’دیدی، کیا ہم واقعی یہاں اپنی زبان پڑھ سکتے ہیں؟‘‘ کُروکھ زبان میں ایک کتاب اپنے ہاتھ میں لیے ۱۵ سالہ انش اوراؤں نے مجھ سے دریافت کیا۔
ہم مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلع کے ایک اسکول میں ہیں، جہاں چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ باغ جہاں انش کے اور میرے والدین کام کرتے ہیں، وہ لیش ندی کے کنارے واقع ہے۔
ہمارے کنبے یہاں کے زیادہ تر مزدوروں کی طرح اوراؤں قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے آباء و اجداد چار نسل قبل چھوٹا ناگپور کے پٹھاری (سطح مرتفع) علاقہ کے رانچی، گملا اور سمڈیگا اضلاع سے آئے تھے جو اب جھارکھنڈ میں ہے۔ گھر میں ہم اب بھی کُروکھ بولتے ہیں، جو ہماری برادری کی زبان ہے، لیکن گھر کے باہر ہم ہندی اور بنگالی بولتے ہیں۔ لہٰذا انش نے کبھی ہماری مادری زبان میں کوئی کتاب نہیں دیکھی۔
میری پرورش یہیں لیش ریور ٹی گارڈن کے اندر پتی باڑی میں ہوئی ہے۔ مردم شماری کی ہینڈ بک میں ندی کا نام ’لِش ریور‘ درج ہے، لیکن گاؤں والے اور مقامی انتظامیہ اسے ’لیش ریور‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔



















