’’رات میں بادل پھٹا اور سب کچھ بہہ گیا… خود دیکھ لیجئے۔ سب کچھ بہہ گیا ہے۔ ہم نے اپنا گھر اور چار مویشی کھو دیے۔ سب کچھ…‘‘ شری کوَل بھارت مورے ہمیں ٹن کی دیواروں اور شیڈ والے اپنے گھر کے آس پاس کی جگہ دکھاتے ہوئے بتا رہی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں، ’’پانی کمر تک آ گیا تھا۔ ہمارے بیٹے نے ہمیں جگایا تو ہم بچ گئے۔ لیکن وہ پانی…‘‘
مورے ماوشی گھر میں جو کچھ بچا پائیں، اسے انہوں نے دھات کی الماری پر اکٹھا کر لیا۔ گھر میں مٹی کا فرش بہہ چکا ہے اور پیچھے ریتیلا اور اوبڑ کھابڑ فرش بچا ہے۔
دھاراشیو (سابقہ عثمان آباد) کے بھوم بلاک کے چنچ پور ڈھگے میں ۲۱ ستمبر، ۲۰۲۵ کو موسلا دھار بارش ہوئی تھی۔ یہ گاؤں گوداوری کی معاون ندی بان گنگا کے کنارے آباد ہے۔ اگلے دن، ۲۲ ستمبر کو بھی رات بھر بھاری بارش ہوتی رہی۔ گاؤں میں پانی بھر گیا۔ لوگوں نے اس خطرناک موسم کے بارے میں یوں بتایا، ’’ہم نے زندگی میں ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘‘
سوریہ کانت مورے نے ہمیں ندی دکھائی۔ کنارے پر موجود سارے کھیت بہہ گئے ہیں، جن میں ان کے ایک ایک ایکڑ کے دو انگور کے باغ بھی ہیں۔ مورے کہتے ہیں، ’’ہم اپنے مویشیوں کو وقت رہتے بچا پائے۔ وہ گردن تک پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں چھوڑ دیا اور وہ بچ گئے۔ لیکن ٹن شیڈ میں جو کچھ رکھا تھا، سب بھیگ گیا۔ جوار، مونگ، اُڑد اور مونگ پھلی کی بوریاں، سب کچھ۔ سارا کڑبا یعنی جوار یا مکئی کے ڈنٹھل کی شکل میں رکھا چارہ بہہ گیا۔‘‘
مورے نے ڈیڑھ ایکڑ میں پیاز لگائی تھی۔ اب پورے کھیت میں صرف چٹانیں اور پتھر بھرے ہیں۔ اوپری مٹی کی زرخیز پرت والے سبھی پیاز کے پودے تیز پانی میں بہہ گئے۔























