گوپال نگر کے ایک چھوٹے سے سنتالی گھر کی مٹی کی دیواروں پر جنگل اگ رہا ہے۔ چھت کی طرف اٹھنے والی درخت کی شاخیں بغل میں اگنے والے نیم کے درخت کی چھتری سے مل جاتی ہیں۔ وہ راستہ جس پر ایک نر چیتل (ہرن) اپنے بچوں کے ساتھ گزر رہا ہے، اسے چھوٹے چھوٹے پھولوں اور دیو ہیکل تتلیوں سے سجایا گیا ہے۔ بلبل، ببلر، باربیٹ اور طوطے کے پروں کو شوخ رنگوں سے رنگا گیا ہے۔ قریب میں واقع اِیلم بازار جنگل میں بسیرا کرنے والے یہ پرندے، دیوار کی مدھم سفیدی کے اوپر اپنے پر تول رہے ہیں۔
دیوار پر ان مخلوقات کی نقل و حرکت یا اس کا واہمہ ۷۵ سالہ چُرکی تُوڈو کا دھیان اپنی طرف نہیں کھینچتی۔ اور نہ ہی مئی کی اس دوپہر میں ان کی ٹن کی چھت پر ٹپکنے والی غیرموسمی بارش کی بوندوں سے پیدا ہونے والی موسیقی ہی ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے۔ بلکہ جب ہم گھر کی بیرونی دیوار پر مٹی کی کانتھا کی طرح بنی اس پینٹنگ کے پاس سے گزرتے ہیں تو ہمارے قدموں کی چاپ انہیں متوجہ کر لیتی ہے۔
اِیلم بازار بلاک میں واقع اس گاؤں سے گزرتی ہوئی پکی سڑک کے دونوں طرف ایک دوسرے سے متصل مٹی کی متعدد سنتال جھونپڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ جب ہم وہاں سے گزرتے ہیں تو گھروں کی بیرونی دیواروں پر بنی رنگ برنگی تصویریں ہماری توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔
’’ان دنوں بچے فون اور اخبارات کی مدد سے نت نئے ڈیزائن بناتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں ایسی سہولت کہاں تھی؟ ہم صرف کھیت سے مٹی حاصل کرتے اور دیواروں پر رنگ چھڑکتے تھے،‘‘ چُرکی تُوڈو اپنے کمرے سے باہر نکل کر دروازے تک پہنچتے ہوئے کہتی ہیں۔ وہ جس آسانی کے ساتھ ہم سے بات کرتی ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ہم جیسے متجسس مہمانوں کی عادت ہے، جو ان کے گھر کی سجی ہوئی دیواروں کی تصویریں اتارنے گاؤں آتے رہتے ہیں۔
وہ ہمارے پوچھنے کا انتظار کیے بغیر براہ راست اس موضوع پر آ جاتی ہیں جس سے متعلق ان کا خیال ہے کہ ہم دلچسپی رکھتے ہیں۔ ’’سفید مٹی، سرخ مٹی، سیاہ مٹی کے رنگ جو ہانڈیر تیل [کھانے پکانے کے برتن سے جلے ہوئے تیل کی باقیات] سے بنتے تھے، یہی رنگ ہوتے تھے۔‘‘ ایک لمحہ کے توقف کے بعد وہ اپنی باتوں کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں، ’’پہلے مٹی کی پرانی تہہ کو دیوار سے کھرچ دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد مٹی کی ایک تازہ تہہ اس پر چڑھائی جاتی تھی اور پھر ہم ایک اور تہہ لگا تے تھے۔ آخر میں، کناروں (بارڈر) کو کھڑی ماٹی [چونا پتھر یا چاک] سے رنگتے تھے۔‘‘
چُرکی کو مشرقی بردھمان کے اکولیا گاؤں میں اپنے پشتینی مکان میں گزارے ہوئے بچپن کے دن یاد ہیں۔ لیکن وہ سنتال برادری کے تیزی سے بدلتے ہوئے طور طریقوں اور نئی نسل کے ذریعہ ان تبدیلیوں کو اپنائے جانے کی حقیقت سے بھی واقف ہیں۔ وہ فی الحال گوپال نگر میں اپنی بیٹی کے ساتھ مقیم ہیں۔ ان کا گھر اس گاؤں کے ۳۰۴ گھروں میں سے ایک ہے، جو بولپور سے ایلم بازار جنگل کو جانے والی شری نکیتن روڈ کے بائیں جانب واقع ہے۔


















