بالو مانجھی اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والے نو دیگر مزدور تقریباً دو ہفتوں سے ایک الگ کام میں مصروف تھے: پاس کے جنگل سے ایندھن کی لکڑی اکٹھا کرنا۔
’’ہر تیسرے یا چوتھے دن، ہم صبح پانچ بجے نکل پڑتے تھے، اور دوپہر تک ہر آدمی ۱۰-۱۲ کلو لکڑی لے کر لوٹتا تھا،‘‘ بہار کے نالندہ ضلع کی ارپا پنچایت میں اپنے گھر کے پاس چارپائی پر بیٹھے ۵۵ سالہ بالو کہتے ہیں۔
’’ہم جو لکڑی لاتے تھے، اس سے ۱۰ لوگوں کے لیے تین سے چار دن تک کھانا بنا لیتے تھے،‘‘ بالو کہتے ہیں، ’’لیکن ہم صرف چاول اور دال یا سبزی ہی بناتے تھے، کیوں کہ تین چیزیں بنانے کا مطلب زیادہ لکڑی جلانا پڑتا۔‘‘
وہ تمل ناڈو کے چنئی میں واقع ایک مشہور مضافاتی علاقہ تامبرم میں تعمیراتی مقام پر کام کے دوران گزرے اپنے دنوں کی بات کر رہے ہیں۔
ایل پی جی بحران کے سبب بالو اور ان کے ساتھی مہاجر مزدوروں کے ذریعہ اپنایا گیا یہ عارضی طریقہ دو ہفتوں تک ہی چلا۔ ’’ہر وقت لکڑی ملنا ممکن نہیں ہوتا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔








