’’میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟ ارے بھائی، میں پاس میں ہی رہتا ہوں،‘‘ یہ کہتے ہوئے سُکھرام کومیٹی اپنے گھر کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں، جو یہاں سے تقریباً ۲۰۰ میٹر دور ہے۔ سُکھرام پردادا کی عمر کے ہیں، اور مانتے ہیں کہ انہوں نے ابھی ۶۰ سال کی ہی عمر پار کی ہے۔ وہ سڑک کے کنارے درخت کے ہلکے سے سایہ میں ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے آس پاس کی چیزوں کو دیکھ کر ہمارے ذہن میں سوال پیدا ہو رہے ہیں۔
ان کے پاس ایک بڑا ڈبہ رکھا ہوا ہے، جو تقریباً ۲۰ لیٹر کا ہے اور سفید رنگ کے سیال سے بھرا ہوا ہے۔ بغل میں، تھوڑی ٹوٹی پھوٹی حالت میں، موٹے پلاسٹک کی ایک بالٹی رکھی ہوئی ہے جس میں پانی ہے۔ کسی زمانہ میں یہ پینٹ کی بالٹی رہی ہوگی۔ اس میں کچھ رنگ برنگے کنٹینر تیرتے نظر آ رہے ہیں۔ زمین پر پڑے پلاسٹک کے لال گلاس کے علاوہ، دو مگ بھی ہیں جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ گاہکوں کے لیے رنگوں کے مطابق رکھے ہوئے ہیں۔ گلابی مگ – جس کا رنگ اڑ چکا ہے – پیلے پڑ چکے ڈبہ پر ٹنگا ہے۔ اور ایک فیروزی نیلا مگ زیتون رنگ کی اُس بالٹی کے اوپر رکھا ہوا ہے۔
یہ کوڈولی گاؤں ہے، جو نارائن پور ضلع ہیڈکوارٹر سے آتے ہوئے چھتیس گڑھ کے بَستر میں واقع ابوجھماڑ علاقہ میں پڑنے والا دوسرا گاؤں ہے۔
سُکھرام سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، اور بے صبر ہونے لگے ہیں۔ ہم میں سے صرف مجھے ہی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کیا چل رہا ہے۔
’’سَلفی، سلفی…‘‘ وہ آنکھیں گھماتے ہوئے کہتے ہیں، جیسے میری لاعلمی پر انہیں غصہ آ رہا ہو۔ میں کیمروں کی طرف دیکھتا ہوں جو میرے اور میرے ساتھی کے پاس ہیں۔ لیکن وہ ہمیں سیلفی لینے کے لیے تو نہیں کہہ رہے تھے۔





