ماچھی وال گاؤں کے لوگوں نے اس رپورٹر کو چائے پلائی، جس کا سامان انہیں قدرتی آفت کے دوران تقسیم کی گئی راحت اشیاء سے ملا تھا۔ راوی ندی کا بند ٹوٹنے سے آئے زبردست سیلاب نے ان کے گھر تباہ کر دیے، ان کے کھیت گاد اور سیلاب کے پانی سے بھر گئے۔ سیلاب نے انہیں ایسا بے سہارا کر دیا کہ وہ اب عارضی خیموں میں رہنے کو مجبور ہیں۔
اگست میں آئے سیلاب میں وہ اپنا تقریباً سب کچھ کھو چکے ہیں۔
سربجیت کور، رمداس بلاک کے ماچھی وال گاؤں کے باہر ایک جھونپڑی میں بیٹھی ہیں۔ یہیں پاس میں ان کا گھر تھا جسے راوی ندی اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔ اپنی زندگی کے مشکل حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بھی وہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ بنائے ہوئی تھیں۔
سربجیت (۱۸) نے پاری کو بتایا، ’’ہم پوری رات بند کو مضبوط بنائے رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ گزشتہ ۲۷ اگست کو صبح ۶ بجے گرودوارہ میں لاؤڈ اسپیکر سے اعلان ہوا کہ دُھسّی [مٹی سے بنا بند] ٹوٹ گیا ہے، جسے پورے گاؤں نے سنا۔ ہم سب کسی اونچی جگہ پناہ لینے کے لیے بھاگے۔‘‘
ماچھی وال، امرتسر ضلع کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جس کی آبادی تقریباً ۱۱۸۶ ہے (مردم شماری، ۲۰۱۱)۔ یہاں زیادہ تر جاٹ سکھ اور رائے سکھ برادری کے لوگ رہتے ہیں، جن میں سے رائے سکھ، پنجاب میں درج فہرست ذات کے طور پر درج ہیں۔ دلت خاندان کسی طرح اپنی چھوٹی چھوٹی زمینوں پر کھیتی کر کے اور دوسرے کے کھیتوں میں بطور زرعی مزدور کام کر کے گزارہ کرتے ہیں۔
سربجیت کی فیملی بے زمین رائے سکھ ہے، اور دوسرے کے کھیتوں میں مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتی ہے۔ سربجیت کی ماں بھی زرعی مزدور تھیں، جن کی ۶ مہینے قبل موت ہو گئی؛ ان کے والد مرگی میں مبتلا ہیں اور کام کرنے سے قاصر ہیں۔ دو بھائی اور ایک بہن والا یہ خاندان اپنا گھر چلانے کے لیے مزدوری کرتا ہے۔
سیلاب کی وجہ سے گاؤں تین چار دن تک پانی میں ڈوبا رہا، جہاں پانی کی سطح ۸ فٹ تک پہنچ گئی تھی۔ اس میں مزدوروں کے گھر تباہ ہو گئے۔ کھیتوں میں خریف کے سیزن کی دھان کی فصل لگی تھی، جو تقریباً تیار ہو گئی تھی۔ لیکن فصل برباد ہو گئی اور کھیت گاد سے بھر گئے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے یوکولپٹس کے درخت بھی جڑ سے اکھڑ گئے۔
















