وِندھیہ پہاڑیوں کے پیچھے سورج غروب ہو چکا ہے اور پرندے جنگل کی طرف لوٹ چکے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب داما سَستیہ اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔ وہ ایک کسان ہیں اور سُگت گاؤں میں اپنے گھر سے ایک کلومیٹر پتھریلے راستے پر نیچے اتر کر پانی کے ایک ذخیرہ تک جاتے ہیں۔ وہ اپنے گھڑے بھرتے ہوئے پوری رات وہیں گزاریں گے اور صبح واپس لوٹیں گے۔ تقریباً ۵۰ سال کے داما بتاتے ہیں، ’’رات میں آبشار (جھرنے) سے زیادہ پانی نکلتا ہے۔‘‘
ایک یا دو آبشار ۵۳۴ لوگوں کی آبادی (بحوالہ مردم شماری ۲۰۱۱) والے پورے گاؤں کی پانی کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتے۔ صبح سویرے سُگت کے رہائشی اپنے پانی کے ڈبوں اور گدھوں کے ساتھ غسل کرنے اور پانی بھرنے کے لیے پہاڑی سے نیچے نرمدا تک اترتے ہیں۔ یہی عمل شام کو بھی دہرایا جاتا ہے اور غسل کرنے، برتن دھونے اور پانی لانے جیسے کاموں میں گاؤں کے لیے روزانہ اوسطاً تین گھنٹے لگا دیتے ہیں۔ ہندوستانی آئین نے پانی کے حق کو زندگی کے حق کا حصہ مانا ہے۔ ایسے میں، یہ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔
ندی سے سب سے دور گھر تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے۔ پانی لانے میں، اوپر نیچے جانے میں ایک گھنٹہ سے کچھ زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ ایک ہفتہ میں یہ تقریباً ۱۵ گھنٹے کی پیدل دوری بنتا ہے، کیوں کہ بھرے گھڑوں کے ساتھ چڑھائی میں اُترائی کے مقابلے دوگنا وقت لگتا ہے۔
صبح سویرے کی ذمہ داری داما کے بیٹے سنبھال لیتے ہیں۔ وہ آٹھ رکنی فیملی کے لیے دو گدھوں پر پانی کے قیمتی ڈبے لاد کر لاتے ہیں۔ گدھوں کو اب اس کی مشق ہو چکی ہے، اور اب وہ اپنے آپ ہی گھر چل پڑتے ہیں۔
پندرہ سال قبل، سُگت اور پڑوسی جھنڈانہ کے بھیلالہ آدیواسیوں کے لیے پانی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ وہ نرمدا اور اس کی معاون ندی ہتھنی کے کنارے رہتے تھے۔ پانی وافر مقدار میں اور آسانی سے دستیاب تھا۔
لیکن نرمدا پر بنے سردار سرووَر باندھ کی وجہ سے جب یہ گاؤں ڈوب گئے، تو سب کچھ بدل گیا۔ تقریباً ۲۰۱۴ کے آس پاس باندھ کے پھاٹک بند ہوئے اور مدھیہ پردیش کے تقریباً ۲۰۰ گاؤوں، جن میں سُگت اور جھنڈانہ بھی شامل ہیں، غرقاب ہو گئے۔ ندی نے وہاں کے لوگوں کی قابل کاشت زمینیں چھین لیں۔ داما اور ان کی فیملی جیسے لوگ، جو مہاجرت یا نقل مکانی نہیں کر سکے، انہیں وندھیہ پہاڑیوں کی جانب اوپر جانا پڑا، جہاں نہ پانی ہے، نہ بجلی، اور نہ ہی پکّی سڑک۔




























