اے بیرا بیٹی ایئم تیں مارچی باری تے، بیرا بیٹی ایئم تیں
دھائیں سے ددا جو ڈینام رے، بیہا گوٹے نی
من مجور ڈینا لا رے، بیہا گوٹے نی
مارچی باری تے، بیرا بیٹی ایئم تائیں
دائیں سے ددا جو ڈینام رے، بیہا گوٹے نی
[مرچ کے کھیت میں بیٹی رو ر ہی ہے
بابا جاؤ نہ، رشتہ کرا دو
من ملا ہمارا، پسند آ جائے تو میری شادی کرا دو
مرچ کے کھیت میں بیٹی رو رہی ہے
بابا جاؤ نہ، جلدی بات بڑھا دو]
لکھیشوری بائی، کھڑیا گاتے وقت ایک الگ دنیا میں پہنچ جاتی ہیں۔ آنکھیں جھکائے، وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے مائیکرو فون کو دیکھ رہی ہیں۔ یہ ان کے لیے ایک غیر معمولی لمحہ ہے۔ لکھیشوری کے ارد گرد بہت کم لوگ انہیں گاتے ہوئے یا اس زبان میں بولتے ہوئے سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جسے ہم ریکارڈ کر رہے ہیں۔ لیکن ہر لفظ کے ساتھ، ان کا من پل بھر میں ۱۶۰ کلومیٹر دور رائے گڑھ پہنچ جاتا ہے، جہاں انہی آوازوں نے ان کے بچپن کے دنوں کو بھر دیا تھا۔
’’اب میں کس سے بات کروں؟ ساس سسر تو اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ میں بچوں سے کہتی ہوں، ’اپنی مادری زبان میں مجھ سے بات کرو اور مجھ سے سیکھو۔‘ لیکن یہ بچے کہاں سنتے ہیں؟ پوتے پوتی کی تو بات ہی چھوڑیے، میں ہی اس پورے گاؤں میں اکیلی بچی ہوں جو کھڑیا بولتی ہے۔‘‘
مہاسمند ضلع کے اس گاؤں میں ’جونا‘ کے نام سے جانی پہچانی جانے والی لکھیشوری بائی، بڈھوا کھڑیا سے شادی کے بعد یہیں آباد ہو گئیں، جو اب ۶۰ سال کے ہو چکے ہیں۔ ریاستی حکومت سے ملی دو ایکڑ زمین سے گھر کا خرچ نہیں چل پاتا، اس لیے میاں بیوی دونوں زرعی مزدوری کرتے ہیں۔ لکھیشوری کہتی ہیں، ’’جب میں رائے گڑھ سے یہاں آئی، تو اپنے ساس سسر سے کھڑیا میں بات کرتی تھی۔ اب وہ گزر چکے ہیں اور میرے پاس کوئی نہیں ہے جس سے میں یہ زبان بول سکوں۔‘‘ ان کے شوہر بڈھوا بتاتے ہیں، ’’میں الفاظ کی صحیح ادائیگی نہیں کر پاتا، اس لیے میں اس کا استعمال نہیں کرتا۔ یہاں تو چھتیس گڑھی کا راج ہے۔ اس زبان کو کون سمجھے گا؟‘‘




