اگست ۲۰۲۳ میں عافیہ خاتون اپنی گلوکاری کے سبب وائرل ہو گئی تھیں۔
ایسا اتفاقاً ہو گیا: ایکس (جسے پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا) کے ایک یوزر نے ان کا ویڈیو شیئر کر دیا۔ اس ویڈیو میں عافیہ آسام کے بنگالی مسلمانوں کے ذریعہ بولی جانے والی ایک مقامی زبان میں گا رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے، جو دوتارہ (بنگالی فوک میوزک میں بجایا جانے والا دو تاروں کا ایک ساز) اورڈھول بجا رہے تھے۔
گانے کے الفاظ کچھ اس طرح تھے:
جونوتارے ای شوبائی ملے تھانائے تھانائے ایجار دلے، ہیمنتو سرکار بُلے دوئیوشی رے۔
جونوتارے زالاہیا، ہیمنتو ایئی جونترنا، جونوتائی شوئیتے آر پارے نا۔
آر کوتو جلائی بے بولو نا،
آر کوتو جلائی بے بولو نا
[لوگوں نے ایک کے بعد دوسرے تھانے میں مجموعی شکایت درج کی ہے؛ ان کا کہنا ہے کہ ہیمنت کی سرکار اس کے لیے قصوروار ہے۔
لوگوں کو پریشان کیا جا رہا ہے، ہیمنت کا ظلم و جبر دیکھئے۔ عوام اب اسے برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔
مہربانی کر کے ہمیں بتا دو، تم کب تک ہم پر یہ ظلم ڈھاتے رہوگے؟
مہربانی کر کے ہمیں بتا دو، تم کب تک ہم پر یہ ظلم ڈھاتے رہوگے؟]
وہ بتاتی ہیں کہ یہ گیت انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے ذریعہ کم عمری کی شادی کو کنٹرول کرنے کے لیے چلائی گئی ریاست گیر مہم کے نام پر ان کی مسلم برادری کے لوگوں کی اجتماعی گرفتاری کی مخالفت کرنے کے مقصد سے گایا تھا۔
’’اس گیت کی تخلیق میری برادری کے مشترکہ درد اور ان کے زبردست غم و غصہ کے نتیجہ میں ہوئی تھی،‘‘ عافیہ کہتی ہیں۔ ’’کسی نہ کسی کو تو آواز اٹھانی ہی تھی۔‘‘ فروری ۲۰۲۳ میں کم عمری کی شادی کے خلاف چلائی گئی مہم میں آسام میں ۳۹۰۰ سے بھی زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد بھی سینکڑوں دوسرے لوگوں کی گرفتاریاں ہوئیں، اور اس میں بنگالی مسلمانوں کی حیرت انگیز تعداد ہے۔










