کرشنا رانی نے ہمیشہ اپریل کو ایک خوشگوار مہینہ کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پنجاب میں گندم کی کٹائی کے بعد ان کے ہاتھ سے بنے سوپ (جسے پنجاب میں چھج کہا جاتا ہے) کی دوبارہ مانگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس مختصر مدت میں ان کی آمدنی کے ساتھ ساتھ ان کے اعتماد اور آزادی کے احساس میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
کرشنا رانی کے لیے ۱۷ سالوں سے اپریل کا مطلب ایک مانوس ضابطہ عمل پر چلنا تھا۔ ان کا دن صبح ۵ بجے شروع ہوتا تھا، تاکہ وہ فاضلکہ ضلع میں واقع اپنے گاؤں ٹاہلی والا بوڈلہ سے صبح ۶ بجے کی بس میں سوار ہو سکیں۔ چھج کا بنڈل ان کے سر پر ہوتا تھا، جنہیں فروخت کرنے کے لیے وہ آس پاس کے گاؤں کا دورہ کرتی تھیں۔
حالیہ دنوں میں ان کے خریداروں میں صرف بزرگ خواتین باقی رہ گئی تھیں۔ وہ اکثر انہیں جانے پہچانے الفاظ میں خوش آمدید کہتی تھیں، ’’بے بے، کتھے چھج چکّی پھردی ایں؟ آجّ کل دی کڑیا نوں چھج پھڑن وی نیں آندے [اماں، یہ چھج لے کر کہاں جا رہی ہو؟ آج کی لڑکیوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں کیسے پکڑنا ہے]۔‘‘
نہ تو ایسی باتوں نے اور نہ ہی ان کے چھج کے خریداروں کی کم ہوتی تعداد نے کبھی ان کی حوصلہ شکنی کی۔ تقریباً چار دہائیوں میں ایک دفعہ بھی کرشنا رانی کے ذہن میں اپنے خاندانی ہنر کو ترک کرنے کا خیال نہیں آیا۔ ’’میں اسے کیوں چھوڑوں گی؟ جتھے کوئی کرن والا نیں سی، چھڈّنا کدے واسطے سی؟ ایدے تیئی سی روٹی [جب میری کفالت کرنے والا کوئی نہیں تھا، تب چھوڑنا کس لیے تھا؟ یہی میری روزی روٹی تھی]،‘‘ انہوں نے اس سال فروری میں ہماری پہلی ملاقات کے دوران کہا۔ اپنی جھگی کے سامنے بیٹھی یہ پچاس سالہ بزرگ خاتون آنے والے سیزن کے لیے چھج بننے میں مصروف تھیں۔



























