کیرالہ میں جب نویں جماعت کے طالب علموں نے ملیالم زبان کا پرچہ کھولا، تو اس میں تنِچیریکّمبول (وھین آئی ایم ایلون، ’جب میں تنہا ہوتی ہوں‘) نام کی ایک نظم شامل تھی۔ ان اشعار میں خاموشی، تنہائی اور علاحدگی میں ملنے والی گہرائی کا ذکر تھا۔ پوری ریاست میں امتحان دے رہے لاکھوں نوجوان یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ ایک نوجوان شاعرہ پی اے شیبہ کی تخلیق کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
اسی سال ۲۰۲۳ میں، شیبہ نے ’وِرَل پڈوتیلے آکاسنگل‘ نام سے ایک کتاب شائع کی، جس میں احساسات، نظمیں اور پینٹنگز شامل ہیں۔ یہاں بھی ان کے اشعار ان کے اسپائنل مسکولر ایٹروفی (ایس ایم اے) کے ساتھ زندگی کے تجربات سے نکلے تھے۔ یہ ایک خطرناک موروثی بیماری ہے، جو عضلات کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ایس ایم اے کے مریض آہستہ آہستہ اپنے جسم پر قابو کھو دیتے ہیں اور آخر میں سانس لینے کے لیے بھی انہیں ایک ٹیوب کی ضرورت پڑتی ہے۔
امتحان دے رہے طلباء اور دور دراز کے قارئین میں سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ شاعرہ کئی برسوں سے اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ انہوں نے اس نظم کی یہ لائنیں اس وقت لکھیں، جب وہ گلے میں ٹیوب لگائے بستر پر سیدھی لیٹی رہتی تھیں۔ گزشتہ چھ برسوں سے زیادہ عرصہ سے شیبہ ٹریکیو اسٹامی ٹیوب کے ذریعہ سانس لے رہی ہیں۔ وہ نہ چل سکتی ہیں، نہ ٹھیک سے بیٹھ سکتی ہیں اور نہ ہی بغیر دقت کے نگل سکتی ہیں۔
شیبہ (۲۷) نے اپنے موبائل فون کے ذریعہ تخلیقی دنیا کو الفاظ دیے ہیں۔ سال ۲۰۱۸ میں انہوں نے اپنا کام آن لائن پوسٹ کرنا شروع کیا۔ پانچ انچ کے موبائل اسکرین پر وہ بہت محنت سے اپنی تخلیقات تیار کرتی تھیں۔
پی وینو گوپال نے سوشل میڈیا پر ان کا کام دیکھا۔ تیرو اننت پورم کے اس صحافی کا کہنا ہے، ’’ان کے الفاظ میں بڑی تاثیر ہے۔ وہ ایسے لکھتی ہیں، جیسے کسی نے سو سال کی زندگی بسر کر لی ہو، پھر بھی نرم گفتار ہو۔‘‘ آج بھی جب شیبہ بہت تھک جاتی ہیں، تو وہ انہیں ٹائپ کرنے اور ایڈٹ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’وہ ملیالم اور انگریزی دونوں زبانوں میں یکساں انداز میں خوبصورتی کے ساتھ لکھتی ہیں۔ جب ان کی انگلیاں تھک جاتی ہیں، تو میں اپنی انگلیاں بطور قرض دے دیتا ہوں۔‘‘
’امید‘ پر لکھا ان کا مضمون ’ٹریپڈ اِن اے کیج، بٹ ورڈز بریک فری‘ (پنجرے میں قید، لیکن الفاظ آزاد) یکم جنوری ۲۰۲۳ کو ’دی ٹیلی گراف‘ کے پہلے صفحہ پر شائع ہوا۔ ایڈیٹر آر راج گوپال نے فیس بُک پر ان کی تخلیقات دیکھی تھیں اور انہیں شائع کرنا چاہا۔ اس کے بعد ان کی ملیالم تخلیقات کو ’وِرَل پڈوتیلے آکاسنگل‘ (اسکائیز سین تھرو دی اسپیسز بیٹوین فنگرز، ’انگلیوں کے درمیان سے بذریعہ خلاء آسمان کا نظارہ‘) نام کی کتاب میں جمع کیا۔ کیرالہ کے وزیر صنعت پی راجیو نے جنوری ۲۰۲۳ میں ایرناکولم پریس کلب میں اس کا اجراء کیا۔ شیبہ نے یہ پروگرام اپنی ماں کے فون پر اپنے کمرے سے دیکھا۔
ان کی ماں صابرہ نے پاری سے کہا، ’’وہ بار بار کہہ رہی تھی، ’دیکھئے امی، میرا آسمان دوسرے لوگوں تک پہنچ رہا ہے‘۔‘‘










