کالندی کنج گھاٹ کی طرف مزید جنوب میں ندی چوڑی ہوتی جاتی ہے اور ہوا کیمیائی بو سے بھر جاتی ہے۔ پانی کی سطح پر گاڑھا سفید جھاگ تیر رہا ہوتا ہے اور ہوا حلق کو جلا دیتی ہے۔
یہاں ۴۱ سالہ فیروز ملک ایک الگ طرح کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ وہ یمنا میں راکھ کو بہاتے ہیں (جو ہندوؤں کے عقیدہ کے مطابق ادا کی جانے والی ایک رسم ہے)۔ وہ یہ کام اس وقت بھی کرتے ہیں جب پانی فضلہ سے بھرا ہوتا ہے۔ ’’اس میں سانس لینا مشکل ہے، اگر کوئی [زیادہ دیر تک سطح کے نیچے] پھنس جائے تو وہ زندہ نہیں رہ پائے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اس کے باوجود فیروز کے لیے اس پانی میں مکمل طور پر غوطہ لگانا روز کا معمول ہے۔
دہلی میں یمنا محض ٹکڑوں میں زندہ ہے، گھٹن کی حالت میں۔ بالکل ویسے ہی جیسے اس پر انحصار کرنے والوں کے کم ہوتے روزگار، جیسے بنارسی اور فیروز جیسے غوطہ خور جو اس خطرناک کام سے ملنے والی روزانہ کی اجرت پر گزارہ کرتے ہیں۔
ندی خاموشی سے تکلیف اٹھا رہی ہے۔ اسی طرح اس پر انحصار کرنے والے لوگ بھی اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ ڈوبتے ہوئے اجنبیوں کو بچانے اور مردہ لاشوں کو نکالنے کے لیےغوطہ خوروں کو کیمیکل سے لدے زہریلے پانی میں اترنا پڑتا ہے۔ ابھینندن جیسے کشتی بان روزانہ تضادات کا مشاہدہ کرتے ہیں: وہ عقیدت مند جو ندی کی پوجا کرتے ہیں مگر اسے آلودہ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ یمنا میں اترنے والے انسان ہیں، جو ندی کے کنارے تباہی، صبر اور استقامت دونوں کے گواہ ہیں، ایک ایسی ندی کے محافظ ہیں جس کے ساتھ طویل عرصہ سے زیادتی کی جاتی رہی ہے۔
ترجمہ نگار: شفیق عالم