مونا اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں گرم لوہے کی ایک سلاخ ہے، جب کہ دوسرے ہاتھ میں بانس کی چھڑی کا ایک ٹکڑا ہے، جو اندر سے کھوکھلا ہے۔ آنکھوں کو یونہی بند کیے وہ اُس سلاخ سے بانس میں پہلے ایک سوراخ کرتی ہیں، پھر دوسرا، تیسرا۔ اس طرح وہ اس میں کل چھ سوراخ کرتی ہیں۔
اپنی آنکھوں کو کھولتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’بانسری بنانے میں ہنر کی ضرورت ہوتی ہے اور زیادہ تعداد میں بنانے کے لیے رفتار کی۔‘‘ اس کے بعد وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں، ’’مرد یہ کام نہیں کر سکتے۔ یہ بہت مشکل ہے!‘‘
مونا (۳۵) کا تعلق اپنے خاندان میں بانسری بنانے والوں کی تیسری نسل سے ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’بانسری ایک معمولی لیکن پیچیدہ آلہ ہے۔ سوراخوں کے بغیر تو یہ بس بانس کا ایک ٹکڑا ہی ہے۔ لیکن اگر اس میں صحیح جگہ پر سوراخ کر دیے جائیں، تو اس سے تمام طرح کی دُھنیں نکلتی ہیں۔ یہ کانھا جی [بھگوان کرشن] کی نشانی ہے۔‘‘
وہ بغیر پلستر والے ایک کمرے کے بیچ میں بیٹھی ہوئی ہیں، جہاں ان کے بغل میں مٹی کا ایک چولہا کوئلے کی مدد سے جل رہا ہے۔ چھت پر بنے اس کمرے میں ایک ہی کھڑکی ہے، جہاں سے دھوپ چھن کر اندر آ رہی ہے؛ باہر آسمان میں چیلیں اڑ رہی ہیں۔













