لاتیہرا ٹولہ میں سڑک کے دونوں جانب آدیواسیوں کے تقریباً دو درجن مکانات کھڑے ہیں۔ کچھ پختہ ہیں اور کچھ مٹی اور پھوس سے بنے ہوئے ہیں۔ ستمبر کی دوپہر ہے، بارش ابھی ابھی برس کر تھمی ہے اور آسمان تقریباً صاف ہے۔ چند ضعیف العمر خواتین گھروں کے سائے میں سڑک کنارے بیٹھی وقت گزاری کے لیے باتیں کر رہی ہیں۔
پھول منی کی خمیدہ کمر اور چہرے پر گہری ہوتی جھریاں ان کی عمر رسیدگی پر دلالت کر رہی ہیں۔ وہ چھڑی کے سہارے میری جانب بڑھتی ہیں۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو پھول منی کی عمر تین سال تھی۔ جموئی ضلع کے لاتیہرا ٹولہ سے تعلق رکھنے والی اس سنتھال آدیواسی خاتون کا نام ۲۱ سال کی عمر کے بعد سے ہمیشہ ووٹر لسٹ میں شامل رہا ہے، لیکن پچھلے مہینہ ان کا نام وہاں سے کاٹ دیا گیا تھا۔ تقریباً ۸۰ سال کی ہو چکیں پھول منی کو اب یہ فکر ستانے لگی ہے کہ ان کی باقی زندگی کیسے کٹے گی۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ ووٹ دینے سے قاصر رہتی ہیں تو سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہیں اٹھا پائیں گی، جو ان کے لیے بہت ضروری ہے۔
دُبراتری گاؤں کے کَنار آدیواسی ٹولہ کے وشنو دیو ہنسدا کا نام بھی اہل ووٹروں کی فہرست سے حذف کر دیا گیا ہے۔ یہی معاملہ راجو کِسکُو اور پھول منی کے کنبے کے پانچ دیگر افراد کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ یہ سب بوتھ نمبر ۱۴، اُتکرمِت مدھیہ ودیالیہ، کھِربھوجنا (مشرق) کے تحت آتے ہیں۔ یہاں ۵۰ نام کاٹ دیے گئے تھے۔ جب ان کی جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان میں سے ۵۰ فیصد آدیواسی تھے۔ نظرثانی کے بعد حتمی فہرست میں اس بوتھ پر ۶۶۱ ووٹروں کے نام درج تھے۔
بہار میں خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کا عمل جولائی ۲۰۲۵ میں شروع ہوا تھا، جس میں ’مردہ‘ اور ’منتقل‘ قرار دیتے ہوئے ۶۶ لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے تھے۔ پڑھیں: اپنی کہانیاں سناتے بہار کے ’مردہ‘ آدیواسی ووٹر
اس ریاست کی کل آبادی میں آدیواسیوں کا حصہ دو فیصد سے بھی کم ہے، لیکن یہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے نام حالیہ انتخابات سے قبل کرائی جانے والی ایس آئی آر میں بہت زیادہ حذف کیے جا رہے ہیں۔ یہاں کے قبائلی اپنی کفالت کے لیے بنیادی طور پر قریبی پہاڑیوں سے حاصل ہونے والی معمولی جنگلاتی پیداوار پر منحصر ہیں۔ وہ دن بھر جنگل سے سوکھی لکڑیاں جمع کرتے ہیں اور شام کو قریبی بازار میں بیچتے ہیں، جس سے انہیں تقریباً ۱۵۰-۲۰۰ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کھیتوں میں، منریگا کے تحت اور جہاں بھی انہیں کام ملتا ہے یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔
















