ریگستان کے کنارے آباد ایک گاؤں۔ اس ریگستان کو گجراتی میں رن کہا جاتا ہے۔ ایک شخص میرے سامنے کھڑا ہے۔ اس کی آنکھیں بھینگی ہیں، بال سفید ہو چکے ہیں، ایڑیاں پھٹ کر کھردری اور سخت ہو چکی ہیں، جلد گرمی کی شدت کی غمازی کر رہی ہے، گالوں اور ہونٹوں کی رنگت ایک جیسی ہو گئی ہے، اس کے مضبوط جسم پر نمک کے چھینٹے پڑے ہیں۔ اسے دیکھ کر فوراً ہی پہچانا جاسکتا ہے کہ یہ اگریا ہے، نمک کے طاس (سالٹ پین) کا ایک مزدور ہے۔
کھارا گھوڑا کے ریگستان میں ریت نہیں ہے، چاروں طرف صرف کھاری مٹی ہے۔ مانسون کے دوران یہ پانی سے بھر جاتا ہے۔ اس کے بعد صرف کیچڑ رہ جاتا ہے۔ ہر گزرنے والا دن پہلے سے زیادہ گرم ہوتا جاتا ہے اور جلد ہی، آپ کو اس ریگستان میں صرف خشک مٹی ہی دکھائی دیتی ہے۔ افق پر دور دور تک کوئی درخت نظر نہیں آتا، صرف کانٹے دار جھاڑیاں کہیں کہیں اگی ہوئی ہیں۔ اس علاقے کا نام سن کر ہی انسان تھک جاتا ہے۔ ایسے میں یہاں کام کرنے کا تصور کیجئے! یہاں لگاتار چلنے کے باوجود بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کہیں نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن پھر بھی یہاں زندگی کو گھسیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
’’قدم آشنا ہیں یہ راہیں مگر،
میں اس صحرا میں کیوں کھو گیا ہوں۔
ہراز بار گزرے ہیں یہاں سے میرے قدم مگر
میں اس صحرا میں کیوں کھو گیا ہوں۔‘‘
نمک کاشت کرنے والے رن کے مزدوروں کی روایتی زندگی کے مصائب کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنانے والے ۶۵ سالہ شاعر ڈی کے وانیا مزید کہتے ہیں، ’’اس علاقہ کے اگریوں میں سے تقریباً ۹۹ فیصد کا تعلق فہرست سے خارج (ڈی نوٹیفائڈ) قبیلے، چُموالیا کولی سے ہے۔‘‘ انہیں چموالیا اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ احمد آباد ضلع کے سب ڈویژن ویرم گام کے شمال مشرقی حصہ میں واقع چُموال کے علاقے سے آتے ہیں۔ گجراتی میں لفظ چُموالی کا مطلب ۴۴ ہوتا ہے، جو علاقہ کے ۴۴ گاؤوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس قبیلہ کے افراد کی زندگیاں پریشانی اور مایوسی سے عبارت ہیں۔ ہر گھر کی جدوجہد کی اپنی کہانی ہے۔ ان میں سے کچھ دل دکھانے والی ہیں۔ یہاں تصادم زندگی کا معمول بن چکا ہے، جسے دوسرے لوگ شاید ہی محسوس کرتے ہوں۔































