یہ ایک سست سی گرمیوں کی دوپہر تھی۔ میری دادی، کُسُم وَنکُندرے، جو اسّی برس سے زیادہ کی ہو چکی ہیں، میرے پاس رکھی کرسی پر بیٹھی تورن (دروازے پر لٹکائی جانے والی آرائشی جھالر) بُن رہی تھیں۔ میں گھر پر کالج کی چھٹیاں منا رہا تھا۔ موسم اتنا گرم تھا کہ باہر نکلنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ ممبئی میں درجۂ حرارت ۷ء۳۹ ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا تھا – جو ایک دہائی میں سب سے زیادہ تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد ہلکی سی نیند آ رہی تھی، لیکن میں اپنی دادی کی یادوں کے سفر میں ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔
’’میں وڈگاؤں کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئی۔ وہاں جے رام سوامی نام کا ایک بہت پرانا مندر تھا، جس میں ۳۳ کوٹی دیوتا [ویدک دیوی دیوتاؤں کی ۳۳ اقسام] تھے۔ میں جس اسکول میں پڑھتی تھی، اس کی کلاسیں اسی مندر کے وسیع احاطہ میں لگتی تھیں۔ کھیلنے کودنے کے لیے کافی جگہ تھی۔ کلاسوں کے بعد ہم ہُتوتو، کبڈی اور لنگڑی کھیلتے تھے۔ ناگ پنچمی کے تہوار پر کچھ لڑکیاں پھُگڑی (ایک لوک رقص) کرتیں اور گیت گاتیں۔ میری چار چھوٹی بہنیں اور میں بہت مزے کیا کرتے تھے۔
’’اسکول صرف ساتویں جماعت تک تھا۔ لہٰذا پڑھائی مکمل کرنے کے بعد میں نے بُنائی اور سلائی سیکھی۔ کھیتی کے کام میں بھی گھر والوں کی مدد کر دیتی تھی۔ میرے والد کے پاس ایک کھیت تھا۔ شیتی ہوتی، پن ممبئی لا کاملا ہوتے۔ آفس مدھے کام کرائیچے، پیون منون [ان کے پاس ایک کھیت تھا، لیکن وہ ممبئی میں کام کرتے تھے۔ وہ ایک دفتر میں چپراسی تھے]۔ ہماری فیملی گاؤں میں رہتی تھی۔ زمین ہماری اپنی تھی۔ اب بھی ہے۔ میرا بھائی اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ تین ایکڑ زمین ہے۔ اُن دنوں آٹھ افراد اس زمین کے مشترکہ مالک تھے – میرے والد، ان کے بھائی اور رشتہ دار۔ تب یہ کوئی ۲۳-۲۴ ایکڑ ہوگی۔
’’ان آٹھ مالکان نے دو مراٹھا مزدور اجرت پر رکھے ہوئے تھے، جو باجرہ، مونگ پھلی اور مونگ کی بوائی کرتے تھے۔ تیار ہو جانے پر ہم مونگ پھلی کی فصل کاٹتے، چنے توڑتے یا سبزیاں جمع کرتے تھے – جیسے وانگی مھنا [بینگن]، پاوٹاچے شینگا [سیم کی پھلیاں]، ہربھرائچی بھاجی [چنے کا ساگ]۔ یہ سب کام کرتے کرتے مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ میں کب ۲۰ برس کی ہو گئی۔‘‘
’’جلد ہی میری شادی کی باتیں شروع ہو گئیں۔ممبئیسے ایک رشتہ آیا اور میری شادی طے ہو گئی۔ سال ۱۹۶۵ میں ہم سب ممبئی روانہ ہو گئے۔ میں، میری ماں، والد، بہن بھائی، چچا، چچی – سب ساتھ گئے۔ وڈگاؤں سے رحمت پور تک بس میں، اور وہاں سے رات کی ٹرین پکڑ کے ممبئی۔
’’گاؤں سے باہر کا یہ میرا پہلا سفر تھا، اور ممبئی آنے کا بھی پہلا موقع تھا۔ ممبئی چی گردی پاہون تھوڑا گڑبڑلا ساڑھے جھالے [اتنے بڑے شہر کی بھیڑ دیکھ کر میں گھبرا سی گئی]۔ وہاں پہنچنے کے بعد دوسرے ہی دن میری شادی ہو گئی اور میں اندھیری میں واقع اپنے سسرالآ گئی۔ میرے مسٹر [شوہر] کرناٹک سے تھے۔ وہ ایک آٹوموبائل کمپنی میں لائن مین تھے۔ میں نے زیورات بنانے کا کام شروع کیا، منگل سوتر بُننے لگی۔ اسی طرح ہماری ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ دو بیٹے، ایک بیٹی۔ اور اب دو نواسیاں اور دو نواسے بھی ہیں۔‘‘
میں نے دادی ماں سے پوچھا: ’’اور آپ ممبئی سے باہر بھی گئی ہیں نا؟‘‘
’’کنیا کماری، کلکتہ، جے پور، کاشی، کشمیر۔ اور تمہارے دادا کے ساتھ سنگاپور اور نیپال بھی گئی تھی۔‘‘
لیکن آپ کا پسندیدہ سفر کون سا تھا، آجی؟
’’کاشی کا، جہاں میں اپنی ماں اور بہن کے ساتھ ممبئی آنے کے ۳۰ سال بعد گئی تھی۔ یہ صرف عورتوں کا سفر تھا۔ میری بھابھی اکثر ایسے سفر کرتی تھیں۔ انہوں نے مجھے اس کے بارے میں بتایا اور ساتھ چلنے کو کہا۔ میں راضی ہو گئی۔‘‘
دادا نے کیا کہا؟ کیا آپ کو ڈر نہیں لگا؟ میرے ذہن میں کئی سوال تھے۔ دادی ماں جو کہانی سنا رہی تھیں، وہ دلچسپ ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے ساری زندگی انہیں ایک نرم مزاج، محبت کرنے والی بوڑھی خاتون کے طور پر دیکھا تھا، جو کھانا پکاتیں، بُنائی کرتیں، مسکراتیں اور اپنے گھر والوں کی خدمت کرتیں۔ ایک ایسی خاتون جو ہمیشہ گھر میں رہی تھیں، ہر لحاظ سے ایک گھریلو عورت۔ لیکن اب اچانک میں ان کی اس بہادر اور حیرت انگیز مہم کے بارے میں جان رہا تھا، جو انہوں نے ساڑھے تین دہائیاں پہلے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ کی تھی۔ میں مزید جاننا چاہتا تھا۔
’’کائے نائے، جا منون سنگیتلا۔ تینچی بہینچ نا تی، بہینی بروبر جاتیس تر جا۔ تیا بائکانچی سہل ہوتی، تے یو شکت نیوتے۔ [کچھ نہیں۔ میرے شوہر نے کہا، جاؤ۔ وہ ان کی بہن ہی تو تھیں نا؟ اگر تم میری بہن کے ساتھ جا رہی ہو تو جاؤ۔ وہ صرف عورتوں کا سفر تھا، اس لیے وہ نہیں جا سکتے تھے۔ اور میرا بہت دل تھا جانے کا۔ کوئی ڈر یا گھبراہٹ نہیں تھی۔ پھریلا جائچی مگ بھیتی کسلی واتنر [جب گھومنے جا رہے ہو تو ڈر کیسا؟]
’’میں اُس وقت ۵۰ برس کی تھی۔ شالن آجی [ان کی بہن] مجھ سے دو سال چھوٹی تھیں۔ میری ماں کی عمر تقریباً ۷۲ برس ہوگی۔ پہیلی لوکا کاٹک ہوتی نا رے۔ اتہ آمہی کسہ کاٹک ناہی آہے ییوڈا۔ آمچی آئی کاٹک ہوتی شیوت پرَنت چالٹ ہوتی چانگلی۔ [پہلے لوگ بہت مضبوط اور جفاکش ہوتے تھے۔ اب ہم اتنے مضبوط نہیں رہے۔ ہماری ماں بہت طاقتور تھیں اور آخری وقت تک اچھی طرح چلتی پھرتی رہیں۔] اُس بس میں ہم ۴۵ عورتیں تھیں، جسے ہم نے ۱۵ دنوں کے لیے بُک کیا تھا۔ اس سفر کے لیے میرے دونوں بیٹوں نے مل کر ۴۰۰۰ روپے دیے تھے۔ ہم نے کاشی، اجین، متھرا اور ایسے ہی ۲۷ مذہبی مقامات کی زیارت کی…‘‘
میں پوری توجہ اور اشتیاق کے ساتھ دادی ماں کی ایک اور دلچسپ کہانی سننے کے لیے تیار تھا…


