یہ اسٹوری پارتھ ایم این کی اُس سیریز کا حصہ ہے جسے پُلٹزر سینٹر کا تعاون حاصل ہے۔
امول کھانڈیکر کو ان کے چچیرے بھائی کے ذریعہ بھیجے گئے یوٹیوب چینل کے ایک معمولی لنک کی قیمت اپنی ماہانہ آمدنی سے دوگنی سے بھی زیادہ رقم سے ادا کرنی پڑی۔ اور یہ کوئی فشنگ (آن لائن دھوکہ دہی) کا معاملہ بھی نہیں تھا۔
اپنی آمدنی سے بمشکل تمام گزر بسر کرنے والے اس ۳۵ سالہ مزدور نے اس لنک کو دیکھا اور صبح کی بس پکڑ لی۔ ان کے ہمراہ ان کا ۱۱ سالہ بیٹا تھا، جس کے سر میں ایک گانٹھ کی تشخیص ہوئی تھی، اور ایک بیمار ماں تھیں جو جوڑوں کے عارضہ میں مبتلا تھیں۔ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کی ایک خستہ حال بس میں نو گھنٹے کے اس سفر کی وجہ سے ان کے گھٹنوں میں مزید جکڑن پیدا ہو گئی تھی، لیکن یہ سفر رائیگاں نہیں جانے والا تھا۔ امول کے چچیرے بھائی نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کی صحت سے متعلق تمام مسائل کا حل اسی یوٹیوب چینل میں چھپا ہے۔
اس چینل پر ویڈیوز کی ایک سیریز موجود تھی، جس میں پیشانی پر سفید بھبھوت مَلے ایک داڑھی والے ’بابا‘ کو دکھایا گیا تھا، جو اپنے ہزاروں عقیدت مندوں سے خطاب کر رہے تھے۔ خاندانی جھگڑوں سے لے کر شراب نوشی کی لت تک، پیشہ ورانہ رکاوٹوں سے لے کر کینسر تک، اور ذہنی صحت کے مسائل سے لے کر محبت کی وارداتوں تک راجندر گڈگے ’مہاراج‘ کے پاس ہر مرض اور ہر مسئلہ کا علاج اور حل موجود تھا۔
ان کے چینل کے مطابق، گڈگے نے دتّ کا ۱۲ سالہ روحانی کورس مکمل کیا تھا، جو کہ ایک اساطیری سادھو ہیں اور جنہیں بھگوان وشنو کا اوتار تصور کیا جاتا ہے اور ان کی پوجا کی جاتی ہے۔ چینل کے تعارفی سیکشن میں مزید لکھا گیا ہے کہ ان کی لگن اور روحانیت کو دیکھتے ہوئے دتّ گرو نے گڈگے مہاراج کو آشیرواد دیا۔ اس بعد سے ہی ’’وہ دوا اور دعا کی مدد سے اپنے زائرین کے مسائل حل کر رہے ہیں۔‘‘
دتّ دھام سرکار سنگم نیر کے باضابطہ نام سے چلنے والے اس یوٹیوب چینل کے ایک لاکھ ۸۳ ہزار سبسکرائبرز ہیں۔ چینل ہر ایک ویڈیو کے نیچےموجود پرجوش تبصروں کو دیکھ کر امول نے سوچا: ’’وہ یقیناً کچھ تو صحیح کر رہے ہوں گے۔‘‘










