کانسی رام، گروگرام کے بنجارہ بازار میں اپنی دکان کے سامنے کھڑے ہیں۔ ان کے پیچھے بانس اور ترپال سے بنی جھونپڑی میں لکڑی کا مختلف قسم کا فرنیچر فروخت کے لیے رکھا ہے، جو اس چھوٹی سی جگہ میں ٹھونس کر بھرا گیا ہے۔ ان کی بیوی آشا قریب ہی بیٹھی ہیں۔ وہ ایک کپڑا گیلا کر کے اپنے سر پر رکھتی ہیں۔ دن کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن دہلی کی گرمیوں کی صبح بھی بے رحم ہوتی ہے۔ آشا کہتی ہیں کہ سر پر رکھا یہ گیلا کپڑا انہیں کچھ راحت دیتا ہے۔
کانسی رام اور آشا کے لیے یہ گرمی کوئی نئی نہیں ہے۔ روایتی لوہار برادری سے تعلق رکھنے والے گاڑیا لوہاروں کے لیے آگ ہمیشہ زندگی کا حصہ رہی ہے۔ ’’ایسی گرمی میں گرم گرم لوہے کو پیٹتے تھے…آنچ کے سامنے بہت محنت کی ہے۔‘‘
گاڑیا لوہار اپنی اصل راجستھان سے جوڑتے ہیں، جہاں انہیں انتہائی پسماندہ برادری (ایم بی سی) میں شمار کیا جاتا ہے۔ دہلی اور ہریانہ کے گرد و نواح جیسے کچھ علاقوں میں، جہاں ان کی بڑی تعداد موجود ہے، انہیں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ ان ۹۸ فیصد خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش برادریوں کا حصہ ہیں، جن کے پاس اپنی زمین نہیں ہے۔ ہندوستان میں صرف ۱۱ فیصد خانہ بدوش برادریاں سرکاری زمین پر رہتی ہیں۔ بہت سے گاڑیا لوہار اپنی بیل گاڑیوں میں ہی رہتے اور سفر کرتے ہیں، جو ان کے لیے چلتے پھرتے گھر اور کام کی جگہ کا کردار ادا کرتی ہیں۔
کانسی رام نے برسوں تک جھلستی گرمیوں اور شدید سردیوں میں سڑکوں پر گھوم گھوم کر ہاتھ سے بنائے گئے لوہے کے اوزار، برتن اور دیگر سامان بیچے ہیں۔
لیکن دہلی اور اس کے اطراف میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے، اور اب انہوں نے گھوم گھوم کر سامان بیچنا چھوڑ دیا ہے۔ وہپاریسے کہتے ہیں، ’’اتنی شدید گرمی میں گھر گھر جانا بیکار ہے۔ اسی لیے ہم نے وہ کام چھوڑ کر یہ کام شروع کر دیا۔‘‘












