’’ہمارے چولہے تو ان لاشوں سے جلتے ہیں،‘‘ وجے کہتے ہیں، جو وارانسی کے راجہ ہریش چندر گھاٹ پر دن کی دوسری لاش کو جلانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دھواں اور راکھ ان کی آنکھوں اور ناک میں چبھتے ہیں، لیکن وہ لگاتار ہاتھ سے ہوا کرتے ہوئے اسی کے درمیان اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔
وجے چودھری (۳۵) کا تعلق بنارس کی ڈوم کمیونٹی سے ہے (جس کا شمار درج فہرست ذات میں ہوتا ہے)۔ ان کا خاندان چار نسلوں سے اس کام میں لگا ہوا ہے۔ وہ ملک بھر سے آخری رسومات ادا کرنے کے لیے شہر لائے جانے والے متوفیوں کی چتاؤں کو سجانے اور ان کی لاشوں کو جلانے کا کام کرتے ہیں۔
یہاں کے دیگر لوگوں کی طرح، وجے کے گھر پر بھی سیال پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کا کنکشن تو ہے، لیکن پچھلے ۲۵ دنوں سے انہیں گیس نہیں ملی ہے۔ ’’میں نے سلنڈر بُک کرانے کی کوشش کی، لیکن ان کا فون بس بجتا رہتا ہے۔ ایک ہزار روپے والے سلنڈر [۲ء۱۴ کلو] کے لیے ۲۰۰۰ روپے دینا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں چِتا میں استعمال ہوئی لکڑیوں کے ٹکڑوں اور بچی ہوئی لکڑی سے کھانا بنانے کی پرانی روایت پر لوٹنا پڑا ہے۔ ہم روزانہ تھوڑی بہت لکڑیاں گھر لے جاتے ہیں،‘‘ وجے نے پاری کو بتایا۔















