’’کوئی بھی اسے ہاتھ نہیں لگا رہا تھا؛ ہرشخص نے اس سے دوری بنا رکھی تھی۔ جب ڈاکٹر صاحب آئے، تو وہ بھی ہاتھوں میں دستانے پہن کر اور منہ ڈھک (ڈھانپ) کر اس کا معائنہ کر رہے تھے۔‘‘
سُنیتا لگوری اسپتالوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کو وہاں اتنی دفعہ لے جا چکی ہیں کہ اب اس کی گنتی بھی یاد نہیں رکھنا چاہتیں۔
ان کی سات سالہ بیٹی رِیا جب محض پانچ مہینے کی تھی، تب اس میں تھیلیسیمیا کی تشخیص ہوئی تھی۔ تھیلیسیمیا ایک موروثی خون کی بیماری ہے، اور رِیا کو جس نوع کی تھیلیسیمیا ہے، اس کے علاج کے لیے باقاعدگی کے ساتھ زندگی بھر خون بدلنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے سنیتا ہر مہینہ دو بار اسے ہسپتال لانے کی عادی ہو چکی ہیں اور سرکاری اسپتال کے عملہ سے بھی اچھی طرح واقف ہو چکی ہیں۔
لیکن ستمبر ۲۰۲۵ کا دورہ ایسا تھا، جسے وہ زندگی میں کبھی نہیں بھلا پائیں گی۔
وہ گھر سے اس امید کے ساتھ نکلی تھیں کہ ریاست کی ’سوامی وویکانند نِشکت سواولمبن پروتساہن یوجنا‘ کے تحت ملنے والی ایک ہزار روپے ماہانہ کی امداد کے لیے درخواست دیں گی۔ انہیں بتایا گیا کہ درخواست جمع کرنے کے لیے کچھ اضافی ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔
سنیتا نے انتظار کیا، اور جب ٹیسٹ کے نتائج آئے تو اس نے سب کچھ بدل دیا۔ ان کی بیٹی ایچ آئی وی پازیٹو تھی۔ وہ ہیومن امیونو ڈِفیشئینسی وائرس (ایچ آئی وی، یعنی انسانی مدافعتی قلت کا وائرس) سے متاثر ہو چکی تھی۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو ایچ آئی وی بعد میں خوفناک ایڈز (ایکوائرڈ امیونو ڈفیشئینسی سنڈروم) کا باعث بن سکتا ہے۔
’’ہم نے اس کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ بیماری کیا ہے،‘‘ ریا کے ساتھ اپنے ایک کمرہ کے کچے مکان کے باہر بیٹھی سنیتا کہتی ہیں۔ وہ ہفتوں بعد بھی صدمہ کی حالت میں ہیں۔ ان کے شوہر وجے اکثر کام کے سلسلے میں ہجرت کرتے ہیں اور اس دفعہ وہ امید کر رہے تھے کہ اپنے گھر کی دوبارہ تعمیر کے لیے کافی رقم لے کر آئیں گے۔ پانچ افراد پر مشتمل یہ فیملی ’ہو‘ برادری سے تعلق رکھتی ہے، جسے جھارکھنڈ میں درج فہرست قبائل (شیڈولڈ ٹرائب) کے طور پر درج کیا گیا ہے۔















