رگھو ویر وشوکرما جب بڑے سے ہتھوڑے سے پیٹ کر لوہے کی چادر بناتے ہیں، تو ایک لے میں ہتھوڑے سے آواز آتی ہے: ’’ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک۔‘‘ اس کے بعد چھوٹے ہتھوڑے کی ’ٹپ ٹپ ٹپ‘ کی آواز آتی ہے، کیوں کہ اس کی مدد سے وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اس دھات کی سطح پر کوئی ابھار نہ رہ جائے، جس سے وہ گھنٹی بنانے والے ہیں؛ یہ ایک باریک کام ہے۔
رگھو ویر آہستہ سے انتہائی فخریہ لہجہ میں کہتے ہیں، ’’یہ مویشیوں کا زیور ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے سونار لوگ عام لوگوں کے لیے زیورات بناتے ہیں، ہم مویشیوں کے لیے زیور بناتے ہیں۔‘‘
رگھو ویر (۷۶) جھارکھنڈ کے پلامو ضلع کے براؤں گاؤں میں واقع رام گڑھ محلہ کے رہنے والے ہیں، جو مویشیوں کی گھنٹیاں بنانے والے سب سے بزرگ کاریگروں میں سے ایک ہیں۔ رگھو ویر بتاتے ہیں کہ یہ محلہ (یہ لوہاروں کا محلہ ہے) ایک بڑے کارخانہ جیسا ہے، جہاں ہر کوئی گھنٹی بنانے کا کام کرتا ہے۔
رگھو ویر پانچویں نسل کے کاریگر ہیں، جو بتاتے ہیں، ’’ہمارا باپ دادا سب یہی کر رہا تھا۔ ہم تو نیپڑھ آدمی ہیں، ٹھیپہ دھاری [انگوٹھا ٹیک] ہیں، یقین نہیں کریئے گا۔‘‘
سردیوں کی اس صبح، رگھو ویر اپنے مٹی کے گھر کے باہر جوٹ کی ایک بوری پر دو زانو بیٹھے ہیں۔ بائیں ہاتھ سے لوہے کی چادر پکڑے ہوئے اس پر دائیں ہاتھ سے ہتھوڑا چلا رہے ہیں۔
مویشیوں کی گھنٹیوں کو لمبے عرصہ سے ان کا زیور مانا جاتا رہا ہے۔ دنیا بھر میں دیہی برادریوں کے لیے یہ گھنٹی صرف آرائشی سامان نہیں ہے، بلکہ ایک مفید ذریعہ بھی ہے۔ اس کی مدھم آواز گھنے جنگلوں میں بھی کسانوں کو اپنے مویشیوں کو ڈھونڈنے میں مدد کرتی ہے۔
یہ گھنٹیاں کبھی خوشحال دیہی زندگی کی نشانی ہوا کرتی تھی۔ لیکن مشینوں کے آ جانے کے بعد گھنٹیوں کی جانی پہچانی آواز گم ہونے لگی۔



















