’’یہاں جنگوں سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا سیلاب سے ہوتا ہے،‘‘ ۷۳ سالہ کسان جسویر سنگھ کہتے ہیں۔ وہ اپنے زیرِ آب کھیتوں سے واپس لوٹ رہے ہیں، جو ہند-پاک سرحد کے ساتھ لگی خاردار تاروں کی باڑ کے اُس پار واقع ہیں۔
’’حد نگاہ تک آپ کو صرف پانی ہی پانی نظر آئے گا۔ دریا نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس کی گہرائی ۱۵ سے ۲۰ فٹ ضرور ہو گی،‘‘ ستلج ندی کا حوالہ دیتے ہوئے جسویر ستمبر ۲۰۲۵ کے آخر میں پاری سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
ولّے شاہ ہیتاڑ گاؤں کی چالیس ایکڑ زمین ۱۹۹۰ کے آس پاس تعمیر کی گئی خاردار باڑوں اور بین الاقوامی سرحد، جسے کنکریٹ کے ستونوں سے نشان زد کیا گیا ہے، کے درمیانی حصہ میں واقع ہے۔ جو کسان یہاں کھیتی کرتے ہیں انہیں اپنی زمین تک رسائی کے لیے بی ایس ایف کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ جسویر کی فیملی کے پاس ۱۹ ایکڑ زمین ہے، جو انہوں نے ۱۹۸۰ میں حاصل کی تھی جب سرحدی گاؤوں میں زمین ان کے اپنے گاؤں تھیہ قلندر کے مقابلے میں بہت سستی تھی۔ وہ اس گاؤں تک اپنی اسکوٹی سے ۳۰ منٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔
اگست ۲۰۲۵ میں پنجاب میں جب سیلاب آیا تو جسویر کی ۱۵ ایکڑ کی اراضی زیر آب آ گئی۔ دھان کی تیار فصل تباہ ہو گئی۔ جنوری۲۰۲۶ میں پاری سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’گندم کی بوائی نہیں ہوسکی، کیوں کہ زمین میں اب بھی بہت زیادہ نمی ہے۔ تقریباً سات سے آٹھ ایکڑ زمین سے پانی نکل چکا ہے۔ لیکن اسے قابل کاشت بنانے کے لیے مزید چھ ماہ یا ایک سال تک چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔‘‘ دو فصلی دور پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔
سیلاب سے پورے پنجاب میں کم از کم ۴۰ افراد ہلاک ہوئے، ۷۱۶۱ مویشی بہہ گئے، اور ۱۴ ہزار سے زیادہ مکانات اور تقریباً ۲ لاکھ ہیکٹیئر پر کھڑی فصل کو نقصان پہنچا۔ ’’جدَو پَکّن تے آئے اُودو ہڑ رُلکے لے گیا [جب دھان کی فصل کٹائی کے لیے تیار تھی، سیلاب نے سب کچھ برباد کر دیا]،‘‘ اشوک سنگھ کہتے ہیں، جو جسویر کی طرح فاضلکا ضلع کے ولّے شاہ ہیتاڑ کے ایک کسان ہیں۔
’’میں ٹھیک سے سو نہیں سکتا۔ اگر ایک بار نیند ٹوٹ جاتی ہے، تو پوری رات پریشانی میں گزر تی ہے،‘‘ ۴۰ سالہ کسان پاری کو بتاتے ہیں۔ ان کی فیملی کے پاس باڑ کے اس پار ۱۰ ایکڑ زمین ہے، جہاں انہوں نے دھان کی فصل لگائی تھی۔ پورا پلاٹ ڈوب گیا۔ اس زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار پر ۱۰ افراد پر مشتمل ان کی فیملی کا گزارہ ہوتا ہے۔
















