آگ اور پانی
ایک بار
آگ نے سبھی جنگل کو جلا دیا
اور پہاڑوں پر رہنے والے میرے لوگ
پانی کے حق میں کھڑے ہو گئے
خود کو بچانے
آگ پتھروں میں چھپ گئی
اور جتنی ضرورت ہو اتنی ہی
آگ پیدا کرنے کا قانون بن گیا
تب سے میرے لوگ
آگ کو گھروں (پہاڑوں) میں چھپا کر رکھتے ہیں
اور پانی کو گھروں (پہاڑوں) سے کھلا چھوڑتے ہیں
پہاڑ پانی کے حق میں کھڑا ہے
میدان آگ کے حق میں کھڑا ہے
میدان کے قانون پہاڑ کے قانون سے الگ ہیں۔
میدان حق جتاتا
پانی کے لیے جنگ میں اتر جاتا
اور آخر پہاڑوں میں چھپی آگ کو
اپنے ہاتھوں میں لیتا
آگ سے کھیلتا، جلتا اور جلاتا
بہت پرانی ہے میدان کی یہ روایت
لنکا کی آگ، کھانڈو وَن، لاکشا گرہ، کروکشیتر
اور بھی بہت ہیں اس کے مناظر
اور جب آگ نہیں ملتی تو
ہاتھ میں پتھر اٹھا لیتے ہیں میدان کے لوگ
آخر پتھر میں بھی تو چھپی ہوتی ہے آگ
پہاڑوں کے میرے لوگ کبھی کبھی
ڈھول، ماندل بجاتے ہیں
جیسے کسی کی موت کی خبر دور تک دیتے ہوں
مگر ان پیغاموں کا مطلب میدان نہیں سمجھتا
پہاڑ پانی کے حق میں کھڑا ہے
میدان آگ کے حق میں کھڑا ہے
میدان کے قانون پہاڑ کے قانون سے الگ ہیں۔
بازار میں کھڑی کر دی گئی ہے آج
پہاڑوں میں چھپی آگ کو
لوگ خوشی خوشی خرید رہے ہیں
اپنی ذات کے لیے
اپنے مذہب کے لیے
اپنے ملک کے لیے
انہیں لگتا ہے، آگ سے ہی بچایا جا سکتا ہے
ذات، مذہب اور ملک کو
آج میدان کی آگ نے
گھیر لیا ہے چاروں طرف سے پہاڑوں کو بھی
پھر بھی،
پہاڑ پانی کے حق میں کھڑا ہے
میدان آگ کے حق میں کھڑا ہے
میدان کے قانون پہاڑ کے قانون سے الگ ہیں۔


