’’جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ہم دولت مند نہیں ہیں، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ مہمان نوازی کیسے کی جاتی ہے،‘‘ لکھپت تعلقہ کے موری گاؤں کے کریم جاٹ کہتے ہیں۔ ان کی عمر چالیس کی دہائی کے وسط میں پہنچ چکی ہے۔ کریم جاٹ ان فقیرانی جاٹوں میں شامل ہیں جن کی زندگیوں پر میں نے گزشتہ برسوں کے دوران پاری کے لیے لکھا ہے۔ ساولا پیر کے میلہ کے بعد لکھپت سے نکلتے وقت وہ مجھے الوداع کہہ رہے تھے اور اسی وقت مجھے اپنے ساتھ عید الفطر منانے کی دعوت بھی دے رہے تھے۔ وہ مارچ ۲۰۲۴ تھا، یہ مارچ ۲۰۲۵ ہے۔ کریم بھائی کی دعوت قبول کرتے ہوئے میں ایک بار پھر گجرات کے کچھّ میں واقع موری کے راستے پر ہوں۔
کریم بھائی مجھے گلے لگا کر خوش آمدید کہنے کے لیے منتظر ہیں۔ ’’میں بہت خوش ہوں کہ آپ تشریف لائے،‘‘ ان کی آواز میں جوش اور محبت کے واضح احساسات موجود ہیں۔ ’’آئیےکچھ دیر چہل قدمی کرتے ہیں کیونکہ اس سال رمضان کی آخری نماز کے لیے ابھی بھی کچھ وقت باقی ہے۔‘‘ موری کی اپنی خوبصورتی ہے – یہ ایک بنجر خطہ ہے جہاں حد نگاہ تک چند کیکٹس پودوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ شام ہونے کو ہے لیکن سورج ابھی غروب نہیں ہوا ہے۔ تاہم، خلیج کَچھّ سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا ریڑھ کی ہڈی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
ایک چھوٹے سے تالاب کے کنارے کھڑے ہو کر ہم دلفریب سورج کا نظارہ کر رہے ہیں۔ ’’میں نے گاڑیاں بیچ دی ہیں،‘‘ کریم بھائی سرگوشی میں کہتے ہیں۔ ’’میرے پاس اب بھی تقریباً ۲۰۰ اونٹ ہیں، جن کی دیکھ ریکھ میرا چھوٹا بیٹا کرتا ہے۔ لیکن آمدنی کم ہوتی جا رہی ہے اور چراگاہ سکڑتے جا رہے ہیں۔‘‘ تھوڑے توقف کے بعد وہ اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’مغرب کی نماز کا وقت تقریباً ہو چکا ہے۔ کل عید ہے، شکایت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آؤ سب مل کر اس کا لطف اٹھائیں۔‘‘










