مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع کے مشرقی کنارے پر واقع راج محل کی پہاڑیاں ہیں۔ ان ہموار چٹانوں کی اونچائی زیادہ سے زیادہ ۵۰۰ میٹر ہے اور یہ زمانہ قدیم میں ہموار، زرخیز میدانوں میں آتش فشاں کا لاوا بہنے سے وجود میں آئیں۔ ان پہاڑیوں میں آتش فشاں کی سیاہ چٹانیں (بسالٹ) موجود ہیں۔ ایک وقت تھا جب اس خطہ میں ہاتھی، شیر، بھالو، تیندوے، ہرن کے علاوہ کئی اور جانور رہتے تھے۔ یہاں سنتال سماج کے گاؤں بھی تھے، جو آج بھی زیادہ تر پتھریلے بالائی علاقوں میں آباد ہیں۔
بیربھوم کے نلہاٹی بلاک کا بوروڈی پہاڑ، زمین سے ابھرتی ہوئی بسالٹ کی پہاڑیوں میں سے ایک ہے۔ اس پتھر کو سڑکیں بنانے، ریل کی پٹریوں کے درمیان بچھانے، اور باریک طور پر کچل کر عمارتوں کو تعمیر کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ آج سے تقریباً ۳۰ سال پہلے تک، اس چٹان کی ہموار چوٹی پر یا تو جنگلات تھے یا سنتال سماج کے کاشت کیے ہوئے کھیت۔ لیکن اب اس چٹان کو پتھر کے لیے کھودا جا رہا ہے، جس کی ہندوستان میں سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر میں اضافہ ہونے کی وجہ سے بہت مانگ ہے۔ پہلے ڈائنامائٹ کا دھماکہ کیا جاتا ہے، پھر پاس میں ہی موجود کرشر سے توڑ کر اسے علاقہ سے باہر لے جایا جاتا ہے۔
اپریل ۲۰۱۵ میں ایک ابر آلود دن کو کیا گیا یہ دورہ ہمیں پہاڑی کے دامن میں آباد بھبانند پور گاؤں سے بوروڈی پہاڑ کی چوٹی تک لے جاتا ہے۔
یہاں کے زیادہ تر مزدور اُن گاؤوں کے سنتال مرد، عورت اور نوجوان ہیں، جن کے کھیت اس صنعت نے تباہ کر دیے۔ زیادہ تر لوگ مقامی علاقوں سے آتے ہیں، مگر بہت سے مزدور جھارکھنڈ کے بھی ہیں، جو یہاں سے چند کلومیٹر دور ہے اور وہاں بھی زراعت پر مبنی ان کے روزگار کو کان کنی نے تباہ کر دیا ہے۔ حفاظتی آلہ کے طور پر یہ لوگ جو کچھ پہنتے ہیں، وہ عارضی ہوتا ہے۔ مالکان ان مزدوروں کو جوتے، ہیلمٹ، ماسک، بیت الخلاء کی سہولیات، پینے کا پانی، طبی نگہداشت اور حادثات کے لیے معاوضہ جیسی چیزیں فراہم نہیں کرتے۔
سماجی کارکن گھاسی رام ہمبروم کے مطابق، جون ۱۰۱۴ میں بھبانند پور گاؤں کی ایک سنتال عورت اس سڑک سے گزر رہی تھی جب ایک کرشر منیجر نے اسے پکڑ کر دن دہاڑے تین گھنٹے تک اس کی عصمت دری کی۔ وہ خاتون ڈر کے مارے اس کے خلاف مقدمہ دائر نہ کر سکی۔
سڑک پہ اس جگہ کے بعد، گاڑی کچھ پتھر کی کانوں کے دفاتر کے سامنے سے گزری جہاں تصویریں کھینچنا منع تھا۔ اس علاقہ میں کان کن ’’مافیاؤں‘‘ کا قبضہ ہے، جو باہر سے کیمرہ لے کر آنے والے لوگوں کے ساتھ تشدد بھی کر سکتے ہیں۔ لہٰذا، اگلی تصویر ہم نے بوروڈی کی چوٹی پر واقع پہلے گاؤں سے کھینچی، جس کا نام چندن نگر ہے، جہاں سے پیچھے دیکھنے پر بھبانند پور نظر آتا ہے۔































