’’میری حالت تو شعلے [فلم] کے ٹھاکر جیسی ہو گئی ہے۔‘‘
رویندر شندے کی شرارتی مسکراہٹ یہ بتاتی ہے کہ وہ اس تشبیہ پر خوش ہیں، جس میں وہ خود کا موازنہ شہرۂ آفاق بالی ووڈ فلم ’شعلے‘ میں سنجیو کمار کے کردار سے کر رہے ہیں۔ لیکن پھر وہ ایک لمحہ کے لیے رکتے ہیں اور کہتے ہیں، ’’شاید میں ان سے زیادہ خوش قسمت ہوں۔ انہوں نے تو اپنے دونوں ہاتھ کھو دیے تھے۔‘‘
اس طرح کے حالات سے گزرنے والے اکثر لوگ شاید زندگی سے ہار مان لیتے، مذاق کرنا تو دور کی بات ہے۔ مگر ۴۷ سالہ شندے آج بھی اپنی تلخ زندگی کو سیاہ مزاح کے انداز میں بیان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
شندے کے پاس مہاراشٹر کے یوتمال ضلع کے اُمری گاؤں میں ۱۶ ایکڑ زمین ہے، جس پر انہوں نے اپنی نوجوانی کے زمانہ سے ہی پوری ذمہ داری کے ساتھ کھیتی کرنا شروع کر دیا تھا۔ بدقسمتی سے وہ زراعت سے تب وابستہ ہوئے جب زرعی بحران نے جنم لینا شروع کیا تھا، اور یہ بحران کئی دہائیوں سے مسلسل جاری ہے۔
ان کے والد کھیتی باڑی کی آمدنی سے گھر کا خرچ بخوبی چلا لیتے تھے، لیکن جب شندے کی شادی ہوئی اور ان کے بچے ہوئے تو حالات بدل چکے تھے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، فصلوں کی گرتی ہوئی قیمتیں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے شدید موسمی حالات، جیسے طویل خشک سالی نے کسانوں کو بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔
مہاراشٹر میں ایک زرعی گھرانے کی اوسط ماہانہ آمدنی محض ۱۱ ہزار ۴۹۲ روپے ہے، جو انتہائی مایوس کن ہے۔ اس بحران کی شدت نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے مطابق، سال ۲۰۲۴ میں ہندوستان میں ۱۰۵۴۶ کسانوں نے خودکشی کی، یعنی اوسطاً روزانہ ۲۹ کسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حقیقت میں یہ تعداد بھی اصل صورتِ حال سے کم ہے، کیوں کہ زمینی سطح پر اعداد و شمار جمع کرتے وقت اکثر خواتین، دلت اور آدیواسی برادریوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں چونکہ ان میں سے زیادہ تر افراد اس زمین کے قانونی مالک نہیں ہوتے جس پر وہ کھیتی باڑی کر رہے ہیں، اس لیے ان کی خودکشیوں کو اکثر ’’کسانوں کی خودکشی‘‘ کے طور پر درج ہی نہیں کیا جاتا۔
مہاراشٹر۳۸۲۴ خودکشیوں کے ساتھ اس افسوسناک فہرست میں سرفہرست رہا، جو ملک بھر میں ہونے والی کسانوں کی خودکشیوں کا تقریباً ۳۶ فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ریاست کے ودربھ خطہ سے تعلق رکھتی ہے، اور شندے کا گاؤں بھی اسی علاقہ میں ہے، جو زرعی بحران کے شدید اثرات سے دوچار ہے۔
تاہم، شندے کو اس وقت یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ زندگی ان کے لیے ابھی مزید کٹھن ہونے والی ہے۔














