مسجد سے متصل امینہ کے ایک کمرے کے مکان کی کائی جمی کچی دیوار پر جب ایک نرم سبز پتی نمودار ہوئی تو وہ اپنی مسکراہٹ نہیں روک سکیں۔ اس پتی کو توڑنے کی ان میں ہمت نہیں تھی۔ کچھ عرصہ سے انہوں نے باہر آنا جانا ترک کر رکھا تھا۔ ان کے دن کا زیادہ تر حصہ تنہا کمرے میں گزرتا تھا۔ وہ اسقاطِ حمل کے دردناک مرحلہ سے صحت یاب ہو رہی تھیں، جو اس سے کہیں زیادہ دردناک حادثہ کا نتیجہ تھا اور جس نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ خوف کے سایہ میں زندگی گزارنے پر مجبور تھیں اور اس خوف سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان دنوں صرف وہ ننھا، تازہ، سبز، دل کی شکل کا نازک پتّہ ہی تھا جو ان کے پاس موجود تھا۔
یہ پتہ قبلہ کی سمت اُگ آیا تھا، اس لیے وہ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھیں کہ آیا یہ ایک معمولی حقیقت ہے یا کوئی غیرمعمولی نشانی۔
ایک مہینہ کے اندر ہی انہوں نے بڑھتے ہوئے تنے کے ساتھ ساتھ دیوار میں موجود شگاف کو چوڑا اور تقریباً ایک فٹ لمبا ہوتے اور اس کی پتلی شاخوں پر کچھ اور نازک پتوں کو لٹکتے دیکھا۔ اس تنے سے متعلق کسی چیز نے انہیں ابھی تک پریشان نہیں کیا تھا۔ وہ پھر سے سکون محسوس کرنے لگی تھیں۔ فسادات تھم چکے تھے۔ اور سڑکوں پر معمول کی زندگی واپس لوٹ آئی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر سے اجرت پر کشیدہ کاری کا کام بھی شروع کر دیا تھا۔ اکثروہ گھر میں کام کرتے ہوئے خود سے باتیں کرتی تھیں، جیسے کوئی انہیں سن رہا ہو، اور ان کی آزمائشوں اور صدموں کی گواہی دے رہا ہو۔
وہ دیوار کی دوسری جانب دوسری گلی میں پیپل کی پھیلتی ہوئی شاخوں سے بے خبر تھیں۔ اس طرف کے لوگوں کے ساتھ آج کل ان کے بہت کم روابط تھے۔ انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ کب کسی نے دیوار کے پیچھے چند مقدس پتھر رکھ دیے، کب یہ معجزہ رونما ہوا اور کب لوگوں نے درخت کے گرد ایک متبادل ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے رائے اور فنڈز طلب کیے۔ ایسا لگتا تھا جیسے پیپل ان کی لاعلمی میں ان کے خلاف کوئی سازش بن رہا ہو۔ بھگوان کے ظہور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دراصل، اس کے ارد گرد کچھ کہانیاں بھی تھیں: اس مخصوص مقام پر، اس خاص درخت کی جڑوں میں بھگوان وشنو کا مسکن کیوں تھا۔ یا یہ کہ کیا یہ برہما تھے؟ انہوں نے اپنی لاعلمی پر غور کرتے ہوئے اس نوٹس کو پڑھنے کی کوشش کی…


