’’اب کوئی بھی اپنے جمع کیے ہوئے لکڑی کے ٹکڑے نہیں بیچتا،‘‘ روبینہ بی بی کہتی ہیں۔ ’’لوگ انہیں اپنے ہی چولہوں میں جلانے کے لیے سنبھال کر رکھ لیتے ہیں۔‘‘ وہ اپنی جھگی (عارضی گھر) کے باہر بیٹھی ایک ایسے تختہ کو توڑ رہی ہیں جو کبھی دروازہ تھا۔
روبینہ اپنی پانچ رکنی فیملی کا کھانا پکانے کے لیے درکار لکڑی کی مقدار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’یہ دو لگ جائیں گے۔‘‘ فروری ۲۰۲۶ میں ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ اب دو کلوگرام کا ایک سلنڈر ۴۴۰ سے ۵۰۰ روپے میں ملتا ہے، جو جنگ سے پہلے بلیک مارکیٹ میں ادا کی جانے والی قیمت سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
کچرا چُننے والی اس فیملی کے لیے اب کھانا پکانے کے لیے لکڑی کے ٹکڑے نہایت اہم ہو گئے ہیں۔ ایک ہفتہ میں وہ بمشکل پانچ کلو لکڑی جمع کر پاتے ہیں، یا پھر ’’ہم پانچ روپے فی کلو کے حساب سے لکڑی خریدتے ہیں،‘‘ روبینہ کہتی ہیں۔
وہ شمال مغربی دہلی کے بھلسوا علاقہ میں رہتی ہیں، جہاں کچرا چُننے والوں کی ایک بستی آباد ہے۔ ان میں تقریباً سبھی لوگ مغربی بنگال کے ضلع پشچم میدنی پور سے آنے والے پہلی یا دوسری نسل کے مہاجر ہیں۔ ان کی بستی ایک بہت بڑے کچرے کے ڈھیر کے پاس ہے، جس کی اونچائی تین سے چار منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ مرد سڑکوں، رہائشی علاقوں اور بلدیاتی کچرا گھروں سے کچرا جمع کرتے ہیں۔ خواتین پلاسٹک کی بوتلیں، ساشے، ربڑ، شیشہ، تھرموکول اور دیگر قابلِ فروخت چیزیں چھانٹتی ہیں، جنہیں بعد میں کباڑیوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔














