پولیس نے ایک مہینہ کی مدت میں اس لائبریری کو بند کرنے کی تین بار کوشش کی۔ لیکن یہ دوبارہ کھل جاتی تھی۔
کاکروچ جنتا پارٹی – ایک میم پیج جس نے بعد میں نوجوانوں کی ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر لی – نے امتحانی پرچوں کے لیک میں ہونے والی بدعنوانیوں اور بدانتظامیوں پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے، ۲۰ جون ۲۰۲۶ کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنے کی کال دی تھی۔ اسی جگہ، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) نے ایک لائبریری کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مقصد پوری طرح واضح تھا۔
’’مظاہرین اگلے چند دنوں تک جنتر منتر پر ہی قیام کرنے والے تھے،‘‘ اے آئی ایس ایف کے قومی صدر، ویراج دیوانگ نے کہا۔ ’’آپ رات دن نعرے لگا رہے ہیں اور تقریریں سن رہے ہیں۔ لیکن آپ کے پاس اپنے لیے بھی کافی وقت بچ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں، کتابیں بہترین ساتھی ثابت ہوتی ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ مظاہرین اور طلبہ ادب کا مطالعہ کریں اور اس طرح اپنے سماجی و سیاسی شعور میں اضافہ کریں۔‘‘
طلبہ کارکن وہاں پر ایک لکڑی کی میز لے کر آئے اور اس کے اوپر ایک سرخ کپڑا بچھا دیا، جس پر لکھا تھا: ’پردھان کا فیل ہونا ضروری ہے۔‘ پہلے دن، ’’ہمارے پاس شیواجی مہاراج، بھگت سنگھ، اور بابا صاحب امبیڈکر پر لکھی ہوئی کتابیں تھیں،‘‘ ۲۰ سال کے طلبہ کارکن، موہت نے بتایا، جو ہر روز اس لائبریری کو چلاتے تھے۔ ’’انقلابی ادب کے بغیر احتجاج ویسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ نظریات سے خالی کوئی قائد۔ ادب، احتجاج کرنے والوں کو مزاحمت اور بغاوت کا طریقہ بتاتا ہے۔‘‘









