قادر علی اب مجھ سے کبھی بات نہیں کر پائیں گے۔
نومبر ۲۰۲۵ میں میری ان سے آخری ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت وہ بمشکل کوئی بات کر سکے تھے۔ ٹن کی چھت والے ان کے چھوٹے سے گھر کے اندر صرف کھانسی کی نحیف آواز گونج رہی تھی۔ اس ماحول میں سامنے کے صحن میں مرغیوں کا پیچھا کرنے والے مرغ کی آواز بھی بری لگتی تھی۔ اندر قارد لکڑی کی ایک چارپائی پر پڑے تھے اور بظاہر بہت کمزور نظر آ رہے تھے۔
اس سے پہلے وہ مدد کے بغیر چل سکتے تھے، پرانی باتیں یاد کر سکتے تھے، اور اپنی نحیف آواز میں تھوڑی بہت بات چیت بھی کر سکتے تھے۔ لیکن نومبر آتے آتے وہ بستر سے جا لگے تھے، ان کے فالج نے بدتر صورت اختیار کر لی تھی، اور وہ بمشکل اپنے ہاتھ ہلا سکتے تھے۔ قادر ہوش میں تھے، اور اب بھی زندگی کے لیے اسی بہادری سے جدوجہد کر رہے تھے جس بہادری سے انہوں نے اپنی شہریت کے پیدائشی حق کے لیے برسوں تک لڑائی لڑی تھی۔
’’کوئی پندرہ دن قبل انہیں بخار آیا تھا اور ان کے جسم میں خون کی مقدار کم ہونے لگی تھی،‘‘ قادر کے ۳۳ سالہ بیٹے شاہد الاسلام آسام کے گمری گوڑی گاؤں میں اپنے گھر کے برآمدے میں کھڑے ہم سے بات کر رہے تھے۔ ’’وہ اب نہ کھا سکتے ہیں، نہ بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی حرکت کر سکتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کب تک ہمارے ساتھ رہیں گے،‘‘ انہوں نے کہا۔
قادر ابھی تک ہوش میں تھے۔ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، جیسے امید کا کوئی سرا تھامے ہوئے ہوں۔ یہ امید بہرحال، سورج کی ان آخری شعاعوں کی طرح عارضی ثابت ہوئی، جو ان کے گھر کے واحد دروازہ سے اور ٹن کی چھت کی چھوٹی سی شگاف سے اندر داخل ہو رہی تھیں۔
ہماری ملاقات کے چند ہی دنوں بعد قادر وفات پا گئے۔ یہ ۱۸ نومبر ۲۰۲۵ کا واقعہ تھا۔ وہ ۶۶ سال کے تھے۔











