’’قہر برپا تھا،‘‘ عجیب و غریب نام والے ٹائم پاس یاد کرتے ہیں۔ ’’بہت لاش جلایا تھا۔ گنتی کے باہر ہو گیا تھا۔‘‘
گنگا کے کنارے واقع پٹنہ کے بانس گھاٹ کے قدیم ترین شمشان گھاٹ پر کووڈ۔۱۹ کی آمد کے پانچ سال بعد ۲۱ سالہ ٹائم پاس ایک بار پھر گمنامی کے اندھیروں میں کھو گئے ہیں۔ وہ اس عالمی وبا کے دوران کچھ وقت کے لیے اس گمنامی سے باہر آئے تھے۔ اب وہ بے گھر اور بے روزگار ہیں اور اس شہر میں پھر سے ایک گمنام شخص کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ مستقل کام یا آمدنی کے بغیر زندگی گزارنے والے ٹائم پاس پر ان کا یہ نام صادق آتا ہے۔
لیکن انہیں یہ نام اپنی بے روزگاری کی وجہ سے نہیں ملا تھا۔ اس کے لیے ان کے چچا جگنو رام ذمہ دار تھے۔ ان کی پیدائش کے وقت جگنو رام سنی دیول کی ایک فلم دیکھ کر واپس آئے تھے۔ اور جب گھر کی خواتین نے ان کے بیکار بیٹھے رہنے پر طنز کیا، تو انہوں نے اس طنز پر بچے کا نام رکھ دیا۔
’’اب جو بھی کام میرے پاس آتا ہے اسے کر لیتا ہوں،‘‘ ٹائم پاس کہتے ہیں۔ ’’میں کبھی میٹرو میں بیت الخلاء صاف کرتا ہوں، کبھی نالیوں کی صفائی کرتا ہوں، کبھی سڑے ہوئے سؤروں کو اٹھاتا ہوں، کبھی لاوارث لاشوں کو جلاتا ہوں، اور کبھی کچرا بھی جمع کر لیتا ہوں،‘‘ وہ اپنے کاموں کی تفصیل فراہم کرتے ہیں۔
جب بھی شہر کو اپنے مردوں، بوسیدہ اور لاوارث لاشوں کو ٹھکانے لگانا ہوتا ہے، تو ٹائم پاس جیسے لوگوں سے رجوع کیا جاتا ہے۔ اگر کسی لاش کی بدبو فضا میں پھیلنے لگتی ہے، تو ٹائم پاس کو بلایا جاتا ہے۔ ریلوے کی پٹریوں پر کوئی مسخ شدہ لاش پڑی ہو، تو ٹائم پاس کو طلب کیا جاتا ہے۔ شہر کے کسی گوشہ میں کوئی لاوارث لاش مل جائے، تو پولیس کی جیپ ٹائم پاس کو لینے پہنچتی ہے، اور وہ پوسٹ مارٹم روم کے باہر انتظار کرتے ہیں۔
انہیں اس لیے نہیں بلایا جاتا کہ انہوں نے اس کام کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے، بلکہ اس لیے بلایا جاتا ہے کہ وہ ڈوم برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہار میں ڈوموں کو مہا دلت کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کا شمار ریاست کے پسماندہ ترین سماجی گروہوں میں ہوتا ہے۔ سال ۲۰۲۳ میں کرائے گئے ذات پات پر منبی سروے کے مطابق، ریاست میں ان کی کل آبادی دو لاکھ ۶۳ ہزار ۵۱۲ ہے، جو ریاست کی تقریباً ۱ء۱۳ کروڑ آبادی کا محض ۲۰ء۰ فیصد بنتی ہے۔
اس برادری کے لوگ ہندو سماجی درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے بیشتر ایسے پیشوں سے وابستہ ہیں، جو غالب ذاتوں کے ذریعہ ان پر مسلط کیے گئے ہیں، مثلاً مردوں کو ٹھکانے لگانا یا صفائی ستھرائی کا کام۔

















