۱۵ مئی ۲۰۲۶۔ ٹیلی ویژن پر فلیش ہوتی ایک پریشان کن تازہ خبر نے مجھے روزمرہ کے معمولات کے بیچ ہی روک دیا: گجرات کے سورت شہر میں ساڑیوں کی ایک پیکیجنگ کی یونٹ سے ۹۳ بچوں کو رہا کرایا گیا۔ خبر دیکھ کر میں نے سوچا کاش، عباس بھی ان بچوں میں سے ایک ہوتا!
ایک نیم تاریک اور سیلن بھرے کمرے میں، میں ایک نحیف سے بچے کے پاس بیٹھ گئی۔ پورے کمرے میں روئی کے باریک ریشوں کی بو بسی ہوئی تھی۔ وہ بچہ سر جھکائے، گہرے سنہرے رنگ کے زری کے تاروں سے ایک میدان اور اس کے افق پر اڑتے پرندوں کے پیچیدہ نقش و نگار ابھار رہا تھا۔ وہ لکڑی کے فریم پر تنی ہوئی ساڑی پر سلما ستاروں، موتیوں اور قیمتی نگینوں کو جڑنے کے لیے، ناقابلِ یقین مہارت کے ساتھ ایک باریک آری کی باریک سوئی چلا رہا تھا۔ اس کے ناخنوں میں گزرے ہوئے کل کی مٹی جمی ہوئی تھی۔
عباس بھی اس وقت اس کمرے میں قید دوسرے بچوں جیسا ہی دکھائی دیتا تھا – بڑی بڑی، گہری اور اداس آنکھیں، اور لمبی، پھرتیلی انگلیاں، جن کے بارے میں کارخانے کے مالکان کا دعویٰ تھا کہ زری بافی کے اس باریک اور نفیس کام کے لیے یہ بالکل موزوں ہیں۔ ایک خاموش حامی اور اپنی سوئیوں کی باقاعدہ حرکت کے علاوہ، عباس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ اس کا وجود عام دنیا سے بالکل کٹ کر رہ گیا تھا، اور وہ وقت، دن، تاریخ یا سال کے احساس سے بالکل بے خبر ہو چکا تھا۔
جب میں نے آہستہ سے اپنے سوال پر اصرار کیا تو اس نے سرگوشی میں بتایا، ’’میں اسکول جانے کے خواب نہیں دیکھتا۔ اور میں پتنگ اڑانے بھی نہیں جاتا۔‘‘ وہ اپنے غریب اور بے سہارا کنبے کا واحد سہارا بنا ہوا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ رات کو وہ یا تو انہی فریموں کے درمیان فرش پر سو جاتا ہے جن پر دن بھر کام کرتا ہے، یا پھر دکان کے شٹر کے باہر کنکریٹ کے فٹ پاتھ پر لیٹ جاتا ہے۔ اس تاریک اور حبس زدہ کارخانے کی سرمئی چھت ہی عباس کا آسمان تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی اس کارخانے سے باہر بھی قدم رکھ پایا تھا۔
لیکن اس دن کے بعد سے عباس ہمیشہ میرے خیالوں کا ہم سفر رہا۔ جب میں نے وہ خبر دیکھی، تو میرا جی چاہا کہ ان سرخیوں کو کسی گیت کے قالب میں ڈھال دوں؛ گٹار پر ’سی مائنر‘ کی کوئی اداس دھن چھیڑ کر اس دکھ کو کوئی ٹھکانہ دے دوں۔ لیکن یہ استعارہ پھیکا پڑ گیا اور لفظوں نے اس شدید، دم گھونٹ دینے والے بوجھ کو اٹھانے سے انکار کر دیا، جسے میں اس دن اس سے ملنے کے بعد اپنے ساتھ گھر لائی تھی۔


