بھوک ہڑتالیں، ۱۶۵ دنوں کی ریلیاں، سڑکوں کا محاصرہ، ایم ایل اے کو درخواستیں،علامتی اموات کا ڈرامہ، خود کو گندگی اور غلاظت میں غرق کرنا…
یعنی اتنے طویل عرصہ تک اور اس شدت کے ساتھ چنئی کے بلدیاتی کارکنوں نے ریاست سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کیا۔ یہ محض ایک احتجاج نہیں تھا، بلکہ شہر کے مظلوم ترین عوام کی ایک تاریخی جدوجہد تھی، جنہوں نے خاموشی سے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
دسمبر ۲۰۲۵ میں بات کرتے ہوئے، ایک سینئر صفائی کارکن، ایم مہالکشمی نے ریاستی حکومت کی بے رخی کو ذات پات پر مبنی امتیاز کا نتیجہ قرار دیا۔ ’’ہم ۱۳۰ دنوں سے زیادہ وقت سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ مندر کے ملازمین کو بغیر کسی احتجاج کے مستقل ملازمتیں دے دی گئیں۔ نرسوں کے مطالبات ایک ہفتہ میں پورے کر دیے گئے۔ لیکن جب دلت صفائی کارکنان اسی عزت نفس کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ریاست خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔‘‘





















