کجلیاں کے سالانہ تہوار کی تیاری نو دن پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جب بندیل کھنڈ اور بگھیل کھنڈ خطے کے لوگ مٹی کے برتنوں میں گندم کے خوشے رکھتے ہیں۔ پانی دینے کے علاوہ بڑے احتیاط کے ساتھ ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ جب کونپلیں پھوٹتی ہیں تو اُن کی پوجا کی جاتی ہے۔ اَنکر شدہ گندم کو مقامی لوگ کُھجلو کہتے ہیں، جنہیں ٹوکریوں میں رکھ کر عورتیں اپنے سروں پر اٹھائے روایتی گانے گاتے ہوئے مندر کی طرف نکل پڑتی ہیں۔
’’ہم کجلیاں کو انتہائی جوش و خروش سے مناتے ہیں،‘‘ ممتا یہ کہتے ہوئے گاتے اور ڈھولکی بجاتے ہوئے دوسری عورتوں کے ساتھ مندر کی جانب چلتی ہیں، جو شہڈول ضلع کے پچگاؤں میں واقع ہے۔
یہ ایک خاص تہوار ہے ، اور ان علاقوں میں منایا جاتا ہے جو مدھیہ پردیش اور اتر پردیش تک پھیلے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگ اسے مِلن کا تہوار بھی مانتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کو معاف کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ کُھجلو کسی کو پیش کرنا اور دوسروں سے قبول کرنا آپس میں خیرسگالی کی علامت ہوتا ہے۔ برہمن اور راجپوت جیسی اونچی ذات کی برادریاں دھوَجا جلوس کا اہتمام کرتی ہیں اور اپنے گھروں میں پوجا کی رسمیں بھی ادا کرتی ہیں، جب کہ گونڈ اور بَیگا آدیواسی اس تہوار کو روایتی گیت گاتے اور رقص کرتے ہوئے مناتے ہیں۔
رام سوروپ وشو کرما مندر کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہاں میلہ جیسا سماں ہوتا تھا۔ جشن میں شامل ہونے کے لیے دور دور سے لوگ جمع ہوتے تھے۔ ماحول بھجن کیرتن کی صداؤں سے گونج اُٹھتا تھا، اور پورا گاؤں خوشیوں سے جھوم اُٹھتا تھا۔‘‘


