ٹوکری لیے چلتی عورتیں، کلہاڑی اٹھائے مرد، بیل گاڑیوں کو ہانکتے کسان، اور گور ماریا کی لے پر تھرکتے نوجوان مرد و خواتین – گونڈ آدیواسی برادری کی پوری دنیا گویا گڑھ بینگل کے اس پرانے، بانس کی باڑ سے گھرے کچے مکان کے آنگن میں اتر آئی ہو۔ یہ گاؤں نارائن پور ضلع کے گھنے جنگلوں کے درمیان آباد ہے۔ یہاں تازہ کٹی لکڑی کے تختوں اور ٹکڑوں کی گرم، مٹی کی، ہریالی بھری خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ کچھ لکڑیاں آدھی سوکھی ہوئی ہیں، چاروں طرف بکھری پڑی ہیں – ہر ایک جیسے اپنی کہانی کہنے کو بیتاب ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ان کے درمیان بیٹھے بزرگ پنڈی رام، اپنے اوزاروں، لکڑی اور شاگردوں سے گھرے ہوئے ہیں۔
دو زانو بیٹھ کر، لکڑی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر جھکے ہوئے، اپنی اب کمزور ہو چلی، موتیابین سے متاثرہ آنکھوں کو چشمے کے پیچھے سکوڑے ہوئے، یہ ۷۰ سالہ دستکار اپنی تخلیق کردہ شے کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں وہ اپنے خاص اوزاروں کو ان کے مقامی ناموں سے پکارتے ہیں – چھینی، تری کوڑ، ریگی، پٹاسی، ہتھوڑی۔ اپنے ہاتھوں کی ہر حرکت کے ساتھ وہ شاگردوں کو گونڈی زبان میں سمجھاتے ہیں – کہیں صلاح، کہیں احتیاط۔ لکڑی پر کندہ ہر لکیر صرف ایک ڈیزائن نہیں ہوتی، بلکہ وہ جنگل کی سانسوں سے جڑی ایک زندہ کہانی ہوتی ہے، جو کبھی موریا گونڈ برادری نے جنگل کے ساتھ ہم آہنگی میں جی تھی، اور جسے آج بھی کئی لوگ صاف صاف یاد کرتے ہیں۔
لیکن اِن دنوں اُن کے لیے کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے – اور اس سے دور رہ پانا اس سے بھی زیادہ مشکل۔ ’’انہیں بس لکڑی کو چھونا ہوتا ہے، اور انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کہاں کام باقی ہے،‘‘ ان کے بیٹے بلدیو کہتے ہیں، جو خود بھی ایک دستکار ہیں۔ ’’یہ ہنر میری سانسوں جتنا ضروری ہے،‘‘ پنڈی رام کہتے ہیں۔ ’’اگر اسے چھوڑ دوں تو شاید میں زیادہ دنوں تک زندہ نہ رہوں۔‘‘ وہ برآمدے میں بیٹھے ہیں، جہاں چار پانچ لوگ لکڑی گھِسنے، مورتیاں تراشنے اور بھاری ٹکڑوں کو ادھر ادھر لے جانے میں مصروف ہیں۔
’’پہلے مجھے لگتا تھا کہ یہ تو بس ایک گاؤں کا کام ہے،‘‘ پنڈی رام کہتے ہیں۔ ’’پھر شہر کے لوگوں نے اس کی تعریف کرنی شروع کر دی، اور مجھے سمجھ آیا کہ یہی میرا ذریعہ معاش بن سکتا ہے۔ میں نے طے کیا کہ والد سے حاصل کردہ اس ہنر کو آہستہ آہستہ نکھارتے ہوئے اسے ہی اپنی زندگی بنا لوں۔‘‘ ان کی ۳۵ برسوں کی مشق اپنی برادری کی بیش قیمتی وراثت اور لکڑی کے اس پرانے ہنر کو زندہ رکھنے میں گزری ہے۔ لکڑی اور اس سے بنی گھریلو اور آرائشی چیزیں ہمیشہ سے برادری کے گھروں، تقریبات، تہواروں اور روزمرہ کی زندگی کا حصہ رہی ہیں – کبھی بھی صرف کمائی کا ذریعہ نہیں۔


























