’’اوہ، وہ آخری برگر تھا جو وہ لے گیا۔ معاف کیجئے گا، میڈم،‘‘ راہل نے کہا، جب میں ان سے جنتر منتر کے احتجاجی مقام پر ملی تھی۔ وہ اب بھی اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے تھے۔ پیچھے بندھا لال رنگ کا زومیٹو ڈیلیوری بیگ خالی ہو چکا تھا۔ شام کے ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ ’’اس تھیلے میں برگر کے ۳۰ پیکٹ تھے جو بنگلور کے کسی شخص نے بھیجے تھے ’ان کے لیے جو اسے کھانا چاہتے ہوں‘،‘‘ انہوں نے بتایا۔
بہار کے دربھنگہ ضلع سے تعلق رکھنے والے راہل کمار یادو ایک طالب علم ہیں۔ اس احتجاج میں شرکت کرنے کے لیے انہوں نے اپنی پڑھائی سے کوئی چھٹی نہیں لی تھی؛ بلکہ رات کی شفٹ میں ڈیلیوری بوائے کا کام کرنے کے لیے انہوں نے شام ۶ بجے سے صبح کے ۶ بجے تک کا وقت منتخب کیا۔ انہوں نے جنتر منتر پر جو آرڈر پہنچائے ان میں کچھ ایسے کھانے کے سامان بھی تھے، جن کے پیسے دوسرے شہروں میں رہنے والے لوگوں نے ادا کیے تھے۔ نامعلوم افراد کی طرف سے بھیجے گئے یہ پارسل جن پر کوئی خاص پتہ درج نہیں ہوتا تھا – بلکہ جنتر منتر پر موجود کسی بھی بھوکے شخص کے لیے تھا۔
جنتر منتر پر طلبہ کے اس پورے احتجاج کے دوران، لاٹھی چارج اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود، اس قسم کے کھانے مختلف سمتوں سے وہاں لگاتار پہنچتے رہے۔ برگر، سینڈ وِچ، پارلے جی کے پیکٹ وغیرہ، آن لائن ایپس کی مدد سے ’سروس ڈیلیوری پارٹنرز‘ کے ذریعہ پہنچائے جاتے رہے۔ دہلی کے گھروں سے پکے ہوئے کھانے بھی آتے تھے۔ اور سب سے اہم بات، پاس کے گرودوارہ میں لنگر بھی چل رہا تھا، جو دہائیوں سے عام لوگوں کو مفت کھانا مہیا کراتا آ رہا ہے۔








