پرندوں کی آواز کے علاوہ ان گیتوں کے پس منظر میں اگر کوئی گیت سنائی دیتا ہے، تو وہ ہے دھان کے کھیتوں سے آ رہی پانی کی چھپ چھپ کی آواز، جہاں یہ عورتیں پودوں کی روپائی کر رہی ہیں۔ پھر اچانک ہی پانچ عورتیں ایک ساتھ بیہو گیت گانے لگتی ہیں، بڑے آرام سے، بغیر کسی تیاری کے۔
یہ جولائی کا مہینہ ہے، جسے آسامی کیلنڈر کے مطابق ’آہار‘ مہینہ کہا جاتا ہے۔ آج دھان کی روپائی کا پہلا دن ہے، جسے ’نبھوئی‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے: دھان کی ننھی فصلوں کا دن۔ تیتابور کے سلاگوڑی گاؤں میں ہیرا سیکیا کے کھیت میں سورج کی گرمی کافی تیز ہے۔ ہوا میں حبس ہے، اور کام بیحد تھکانے والا۔ ہیرا سیکیا (۵۲) کی چار سہیلیاں اس موسم کے پہلے دن اس کی مدد کے لیے آئی ہیں۔ سنیتا سیکیا (۵۰) گاؤں کی آشا کارکن ہیں۔ ارونا بورا (۵۵) اسکول کے بچوں کے لیے مڈ ڈے میل پکاتی ہیں۔ برشتی پرنا سونوال (۳۵) کبھی پنچایت کی رکن رہی ہیں، اور ۳۵ سال کی نومی سیکیا ایک کسان اور خاتون خانہ ہیں۔ ان سبھی عورتوں کے پاس اپنی اپنی چھوٹی زمین ہے، جس پر وہ دھان کی کھیتی کرتی ہیں۔ یہی ان کے معاش کا ذریعہ ہے۔ کسی اور دن، ہیرا بھی ان میں سے کسی ایک کی مدد کے لیے کھیت میں کام کر رہی ہوں گی۔






