’’تیری بیٹی تو اب بڑی ہو گئی ہے، کیا اب تک اس کے کان ’سُلوا‘ کے لیے تیار نہیں کرائے؟‘‘ بڑی عمر کی عورتیں یوں ٹوکا کریں گی۔ اور پھر لڑکی کی طرف مڑ کر کہیں گی، ’’بین، ہوے تارا لگن ماٹے پن آویشی۔ سَسرا پکش والائے سگائی ما کریلی بولنی مدت پوری تھئی گئی چھے [بین، اب تیری شادی کا وقت آ گیا ہے۔ سسرال والوں نے سگائی کے ٹائم جو وقت دیا تھا وہ اب پورا ہونے والا ہے]۔‘‘ ایسی باتیں ہمارے بھوپا رباری سماج کی بڑی بوڑھی عورتوں کے منہ سے اب بھی سنائی دیتی ہیں۔ ایسا وہ کسی لڑکی کی ماں کو شادی سے پہلے بیٹی کے کان تیار کروانے کے لیے سمجھاتی ہیں۔
مجھے یاد ہے، میری چچیری بہن ناتھی بین موری نے ۱۷ سال کی عمر میں اپنے کان تیار کروانے شروع کر دیے تھے۔ اب وہ ۲۴ سال کی ہے۔ وہ ہمیشہ ’سُلوا‘ (سونے کی بڑی اور گول بالیاں) پہنتی ہے، جن کا قطر ایک سینٹی میٹر سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ جس فیملی میں لڑکی کی شادی طے ہوتی ہے وہ سگائی کے وقت تقریباً دو تولہ (۳۲ء۲۲ گرام) وزن کے یہ جھُمکے ہونے والی دلہن کو تحفہ میں دیتے ہیں۔ ان جھُمکوں کی قیمت تقریباً دو لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔
سُلوا ہمارا سرمایہ ہے، جو ضرورت کے وقت کام آتا ہے۔ لیکن اکثر خاندانوں کو اسے بنوانے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے۔ آج کل بہت مہنگائی ہے اور ہم لوگ زیادہ مالدار نہیں ہیں۔ ہم چرواہے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں تقریباً ۳۰۰۰ لوگ رہتے ہیں، جن میں سے ۶۰ فیصد لوگ مزدوری کرتے ہیں، اور بقیہ ۴۰ فیصد لوگ مویشی پروری میں لگے ہوئے ہیں۔





