پی آر بالا اپنی ورکشاپ کو محبت اور احترام سے ’کورِنجی‘ کہتے ہیں – یہ لفظ دیگر معنوں کے علاوہ، تمل سنگم ادب میں ایک پہاڑی علاقہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے اپنی یونٹ کا نام کورنجی اس لیے رکھا ہے کیونکہ وہاں بانس اگتا ہے۔‘‘ وہ گزشتہ ۲۲ سالوں سے بانس کی ٹوکریاں، چٹائیاں، کرسیاں، جھاڑو اور چلمن تیار کر رہے ہیں۔


Madurai, Tamil Nadu
|FRI, OCT 06, 2017
بانس کی ٹوکریاں، جھاڑو اور چلمن بنانے والے بالا
مدورئی سے تعلق رکھنے والے پی آر بالا گزشتہ ۲۲ سالوں سے بانس سے بنی اشیاء تیار کر رہے ہیں۔ یہ صدیوں پرانا خاندانی پیشہ ہے جس کی مانگ آج بھی قائم ہے۔ منافع کبھی کبھار ہی حاصل ہوتا ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ سخت محنت سے جو ذاتی اطمینان حاصل ہوتا ہے وہ قابل قدر ہے
Author
Translator

Dorairaj V.
ان کی ورکشاپ ویگئی دریا کے شمالی کنارے پر ارول داس پورم گاؤں میں ان کے آبائی گھر کے سامنے واقع ہے۔ بالا کاریگروں کی مہیندر میڈر برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو تمل اور تیلگو دونوں زبانیں بولتے ہیں اور تین صدیوں سے بانس کے سامان بنانے کا کام کر رہے ہیں۔
اب ۳۸ سال کے ہو چکے بالا کے پاس کامرس میں ماسٹر کی ڈگری ہے۔ سال ۲۰۰۷ سے انہوں نے تمل ناڈو پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ منعقد ہونے والے گروپ دو کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کی بھی کئی بار کوشش کی ہے۔ اگر وہ یہ امتحان پاس کر لیتے ہیں تو کلرک، سب-رجسٹرار یا دیگر سرکاری ملازمتوں کے لیے اہل ہو جائیں گے۔ لیکن ابھی تک انہیں کوئی ملازمت نہیں ملی ہے، جس کی وجہ سے بالا اپنے خاندانی کاروبار میں مصروف ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’جہاں تک مجھے معلوم ہے، ہمارا یہ خاندانی پیشہ تقریباً ۷-۸ نسلوں سے چلا آ رہا ہے، شاید اس سے بھی زیادہ عرصے سے۔‘‘
بالا اپنی اہلیہ بھوون کے ساتھ مل کر بنیادی طور پر بانس کی چلمنیں بناتے ہیں۔ ہفتے میں ایک بار وہ مدورئی کے الور پورم بازار سے تازہ بانس کے بنڈل خریدتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’بانس دو قسم کے ہوتے ہیں۔ سب سے اعلیٰ قسم کا بانس پہاڑوں میں اگتا ہے۔ یہ [کیرالہ کے] پلکڑ اور منار کے علاقوں سے یہاں فروخت کے لیے لایا جاتا ہے۔ دوسری قسم کا بانس میدانی علاقوں میں اگتا ہے، جو تمل ناڈو کے تنجاور اور پدوکوٹّئی اضلاع سے آتا ہے۔ دوسری قسم کا بانس پہلی قسم جتنا مضبوط نہیں ہوتا ہے۔‘‘
بالا اور بھوون بانس کی پتلی قمچیاں بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یاد رکھیں، بانس کو چیرنے سے آپ کو چوٹ لگ سکتی ہے۔ اس ہنر کو حاصل کرنے کے لیے کئی سال کا تجربہ درکار ہوتا ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ ان قمچیوں کو تین میٹر لمبے ایک کھمبے سے باندھ دیتے ہیں۔ ہر دن، وہ جتنی چلمنیں بناتے ہیں وہ تقریباً ۵۰ سے ۵۵ مربع فٹ کے رقبہ کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ بالا کہتے ہیں، ’’ہمارا کام صبح ۷ بجے شروع ہوتا ہے اور رات ساڑھے دس بجے ختم ہوتا ہے۔ ہم سارا دن کھڑے ہو کر کام کرتے ہیں۔ اس سخت محنت کے عوض ہم روزانہ ۴۰۰ سے ۵۰۰ روپے تک کی آمدنی حاصل کرپاتے ہیں۔ کبھی کبھی اگر بانس خراب ہو جائیں یا ان میں کیڑے لگ جائیں تو ہمیں نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔‘‘
ویڈیو دیکھیں: بالا اور ان کے بیٹے شروَن وینتا چلمن کے اوپر ایک بانس کا ڈنڈا باندھ رہے ہیں
’ہمارا کام صبح ۷ بجے شروع ہوتا ہے اور رات ساڑھے دس بجے ختم ہوتا ہے۔ ہم سارا دن کھڑے ہو کر کام کرتے ہیں۔ اس سخت محنت کے عوض ہم روزانہ ۴۰۰ سے ۵۰۰ روپے تک کی آمدنی حاصل کرپاتے ہیں‘
بالا کے گاہک مختلف علاقوں – کیرالہ، گوا، انڈونیشیا اور دیگر مقامات سے آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’بانس کے چلمن کی مانگ پورے سال یکساں رہتی ہے، لیکن گرمیوں میں اس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘ بالا براہِ راست اپنے گاہکوں کو یہ چلمنیں فروخت کرتے ہیں اور صرف نجی گاہکوں اور ہوٹلوں کے لیے ہی چلمن تیار کرتے ہیں۔ ٹوکریاں زیادہ تر گھریلو استعمال اور پھلوں و سبزیوں کی تھوک مارکیٹ کے دکانداروں اور تاجروں کے ذریعے خریدی جاتی ہیں۔

Dorairaj V.

Dorairaj V.
بالا اور بھوون کے دو بچے ہیں؛ بیٹا شرون وینتا نویں جماعت میں پڑھ رہا ہے اور بیٹی روپا ورشنی شری پہلی جماعت میں ہے۔ چلمن بنانے والے اس شخص نے کہا ، ’’میرا بیٹا کام میں مدد کرتا ہے، میری بیٹی ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی کہ وہ مدد کر سکے۔‘‘ بالا چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا کوئی اچھی ملازمت کرے اور اس مشقت بھرے پیشہ میں نہ آئے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس سے صحت خراب ہو جاتی ہے۔ میں سارا دن کھڑا رہتا ہوں۔ رات کو میری کمر، کلائی اور ٹانگیں درد کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بانس کو چیرنے سے آپ کو چوٹ لگ سکتی ہے۔ اور آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے چوٹ لگی ہے، لہٰذا آج مجھے آرام کرنے دیا جائے۔ یہ ناممکن ہے۔‘‘
بانس کی مصنوعات بنانے سے حاصل ہونے والا منافع کم ہونے کی وجہ سے، بہت سے لوگ ڈرائیور یا پینٹر کے طور پر کام کرنے کو مجبور ہیں۔ بالا کی بھی ’’اچھی تنخواہ والی، محفوظ اور بے خطر‘‘ سرکاری نوکری کی خواہش تھی۔ لیکن اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی برادری کا ہر شخص کسی نہ کسی کا ملازم ہے، اس لیے وہ خود کو مطمئن محسوس کرتے ہیں کہ کم از کم وہ اپنا ذاتی کاروبار چلا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم جو کماتے ہیں وہی کھاتے ہیں۔ پھر بھی، مجھے اس بات کا اطمینان ہے کہ میں ہی اپنے کام کا مالک ہوں۔‘‘

Dorairaj V.

Dorairaj V.

Dorairaj V.
ترجمہ نگار: عبدالحفیظ
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/balas-baskets-brooms-and-blinds-ur

